ایران امریکا مذاکرات کی اطلاعات، عالمی مالیاتی منڈیوں میں مثبت رحجانات
اسلام آباد : ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں مثبت رجحان دیکھا گیا۔

اس پیشرفت سے مشرقِ وسطیٰ میں تیل کی سپلائی میں خلل کے خدشات کم ہوئے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں نیچے آئیں جبکہ دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں کو سہارا ملا۔
ٹریڈنگ کے آغاز پر جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں عارضی اضافہ ہوا، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے گرد تناؤ کے سبب برینٹ کروڈ 107.02 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 97.40 ڈالر فی بیرل تک بڑھ گیا تاہم اس وقت صورتحال تبدیل ہو گئی جب اس بات کی تصدیق ہوئی کہ ایرانی وفد مذاکرات کے لیے پاکستان آئے گا اور امریکا کے 2 رکنی وفد کی بھی سفارتی بات چیت کے لیے آمد متوقع ہے۔
اس مثبت پیشرفت کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی آ گئی کیونکہ رسک پریمیم کم ہو گیا، برینٹ 104.80 ڈالر فی بیرل تک گر گیا جبکہ WTI کم ہو کر 93.88 ڈالر فی بیرل ہو گیا، جو اس اہم عالمی بحری گزرگاہ کے ذریعے فوری سپلائی میں خلل کے خدشات میں کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
اس کمی کے باوجود برینٹ کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہی تاہم اتار چڑھاؤ کم ہو کر یومیہ 3 سے 6 ڈالر کے درمیان محدود ہو گیا جو نسبتاً مستحکم صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی میں کمی سے آبنائے ہرمز میں ممکنہ تصادم کے خدشات کم ہوئے ہیں، جو دنیا کے اہم ترین تیل بردار راستوں میں سے ایک ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ قیمتیں اب بھی کسی بھی نئی جغرافیائی پیش رفت پر حساس رہیں گی کیونکہ مارکیٹ پابندیوں میں ممکنہ نرمی اور سپلائی کے خدشات کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔
تیل کی کم ہوتی قیمتوں نے عالمی اسٹاک مارکیٹوں کو سہارا دیا، جہاں بڑی منڈیاں مثبت زون میں چلی گئیں کم تیل قیمتوں سے افراطِ زر کے خدشات کم ہوئے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا، خاص طور پر ان ممالک میں جو توانائی درآمد کرتے ہیں۔
امریکا میں بڑے انڈیکسز جیسے S&P 500 اور ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج میں 0.3 فیصد سے 0.7 فیصد تک اضافہ ہوا، جس کی وجہ توانائی کے کم اخراجات اور کارپوریٹ منافع میں بہتری کی توقعات تھیں تاہم توانائی کے شعبے کے حصص تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث پیچھے رہے۔
برطانیہ میں FTSE 100 میں تقریباً 0.4 فیصد سے 0.8 فیصد تک اضافہ ہوا جسے عمومی مارکیٹ رجحان اور تیل کی قیمتوں میں کمی سے سہارا ملا اگرچہ توانائی کے شعبے کی کمزوری نے کچھ حد تک اضافہ محدود رکھا۔



