امارات کا گروپ سے علیحدگی کا اعلان اوپیک کیلئے بڑا دھچکا ہے، برطانوی خبر ایجنسی

برطانوی خبر ایجنسی رائٹرز کا کہنا ہےکہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کا اوپیک اور اوپیک پلس گروپ سے نکلنےکا فیصلہ تیل پیدا کرنے والے ممالک کےگروپ کے لیے بڑا دھچکا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق متحدہ عرب امارات 60 برسوں سے زیادہ عرصے سے اوپیک کا رکن تھا، ایسے وقت میں جب پہلے ہی ایران جنگ کے باعث عالمی اقتصادیات بدترین حالت میں ہے، امارات کا نکلنا گروپ کو کمزور کردے گا ۔
رائٹرز کے مطابق اوپیک عموماً اندرونی اختلافات کے باوجود اتحاد کا تاثر دینے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ تاہم ایران جنگ کی وجہ سے عالمی توانائی بحران پیدا ہو چکا ہے اور خلیجی ممالک کے درمیان اختلافات بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر یو اے ای کا سعودی عرب کے ساتھ اختلاف مزید واضح ہو گیا ہے، جو اوپیک کا اصل رہنما سمجھا جاتا ہے۔
اماراتی وزیر توانائی سہیل محمد المزوری کے مطابق یہ پالیسی فیصلہ خطے کی توانائی ترجیحات، تیل پیداوار کی موجودہ اور مستقبل کی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انتہائی احتیاط کے ساتھ کیا گیا ہے۔ ہم دنیا بھر میں اپنے صارفین اور شراکت داروں کی بڑھتی ہوئی توانائی ضروریات کو قابل اعتماد اور ذمہ دارانہ انداز میں پورا کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور مزید فراہمی کی خواہش رکھتے ہیں۔



