
کراچی میں جہاں صفائی ستھرائی کے فقدان، ٹوٹی سڑکوں اور دھول مٹی سےشہری پریشان ہیں وہیں پورے شہر میں بڑی سڑکوں ان کےسروس روڈز اور آبادیوں کی اندرونی سڑکوں پر تجاوزات کی بھر مارنے بھی لوگوں کو دہرے عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے۔
مختلف علاقوں سے لوگ صبح دفاتر اور اپنے کاروبار کیلئے نکلیں یا پھر شام کو واپس اپنے گھروں کو لوٹیں ان کا اچھا خاصا وقت اور قیمتی ایندھن سڑکوں پرٹھیلے ،پتھارے ،ریڑھی ،گاڑیوں کے مکینک، سبزی و پھل فروشوں کے قبضے کے باعث ضائع ہونا معمول بن گیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہےکہ کےایم سی اور ٹاوئنز میں باقاعدہ اینٹی انکروچمنٹ کے محکمےقائم ہیں ہر علاقے میں اسسٹنٹ کمشنرز تعینات ہیں سار ا سال بظاہر کارروائیاں بھی جاری رہتی ہیں۔
آخر ان تجاوزات کے پیچھے کون سی مافیا ہے جو حکومت ،ضلعی انتظامیہ اور بلدیاتی اداروں کو بھی نہیں مانتی ورنہ ایک مرتبہ خاتمے کے بعد دوبارہ تجاوزات قائم نہ ہوں، ایم اے جناح روڈ جس پر نمائش سے جامع کلاتھ تک گرین لائن پروجیکٹ کا کام جاری ہے، تبت سینٹر کے سامنے اس قدر مختلف کام کرنے والوں کا قبضہ ہےکہ ٹریفک کو گزرنے کے لئے بمشکل ایک لائن باقی بچتی ہےویسے ٹاور تک پوری سڑک کنارےتجاوزت رہتی ہیں۔
نیو ایم اے جناح روڈ پرجیل چورنگی سے پیپلز چورنگی تک شورومالکان اپنی گاڑیاں پارک رکھتے ہیں ، حسن اسکوائر تا صفورا چورنگی تما م سروس روڈ اور کہیں مین سڑک پر بھی ریڑھی،ٹھیلے پتھارے اور مختلف کاروبار کرنے والوں کا قبضہ ہو تا ہے۔
پورے راشد منہاس روڈ اور پھر سہراب گوٹھ سےناگن چورنگی،گرومندر سے لسبیلہ ناظم آباد،نارتھ ناظم آباد،ناگن چورنگی تا سرجانی ٹاون،ملیر ہالٹ سے ملیر سٹی،قائدآباد،اسٹیل مل تک،کورنگی کراسنگ،ناصر جمپ اور اس کےبعد کورنگی پانچ نمبر لانڈھی تک مین سڑکوں پر سارا دن اور رات کو قبضہ رہتا ہے۔
کراچی میں اس وقت بہت کم علاقے اور سڑکیں ایسی ہیں جن پر تجاوزات نہ ہوں اس مسئلے کا حل کیا ہے اور کس کے پاس ہےحکومت،انتظامیہ، بلدیاتی ادارے اور منتخب نمائندے ہی بتا سکتے ہیں۔



