دلچسپ و عجیب

دوپہر کو زیادہ سونے کا دلچسپ مقابلہ

یہ ایک ایسا مقابلہ ہے جس میں شریک ہونا لگ بھگ ہر فرد کو ضرور پسند آئے گا۔

درحقیقت یہ مقابلہ دوپہر کو سونے کا ہے۔

جی ہاں واقعی جنوبی کوریا میں 2 مئی کو سیکڑوں افراد سیئول میں اکٹھے ہوئے تاکہ پاور نیپ کانٹیسٹ کا حصہ بن سکیں جس کا مقصد اس ملک میں نیند کی کمی کے مسئلے پر توجہ مرکوز کرانا ہے۔

دریائے ہان کے کنارے پر واقع پارک میں اس مقابلے کا انعقاد ہوا جس میں ایسے افراد کو شرکت کی دعوت دی گئی جو بہت زیادہ کام کرنے کے عادی تھے اور انہیں سونے کا موقع فراہم کیا گیا۔

سیئول کی مقامی حکومت کی جانب سے تیسرے سال اس دلچسپ مقابلے کا انعقاد کرایا گیا۔

اس مقابلے کا آغاز سیئول کے وقت مطابق دوپہر 3 بجے ہوا اور اس میں شریک افراد کو ہر طرح کے ملبوسات پہن کر آنے کی دعوت دی گئی۔

مقابلے میں شریک ایک 20 سالہ طالبعلم پارک جون سیوک نے بتایا کہ امتحانات کی تیاری اور جزوقتی ملازمتوں کے دوران ہمیں رات میں محض 3 یا 4 گھنٹے سونے کا موقع ملتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘میں یہاں اپنی قیلولے کی صلاحیت کو ظاہر کرنے کے لیے آیا ہوں اور دکھانا چاہتا ہوں کہ ایک بادشاہ کیسے سوتا ہے’۔

مقابلے میں شریک 24 سالہ ٹیچر یو می یون نے بتایا کہ ‘میں ہمیشہ بے خوابی کا شکار رہتی ہوں، مجھے سونے اور آسانی سے جاگنے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے’۔

مقابلے کے آغاز میں لوگ پارک میں مختلف مقامات پر آنکھوں پر ماسکس یا چشمے پہن کر لیٹ گئے جبکہ آفیشلز کی جانب سے دل کی دھڑکن کی رفتار کا تجزیہ کیا گیا تاکہ معلوم ہوسکے کہ کون افراد گہری نیند کے مزے لوٹنے میں کامیاب ہوئے۔

اس مقابلے کے ذریعے جنوبی کوریا کے ایک بڑے سماجی مسئلے پر روشنی ڈالی گئی کیونکہ جنوبی کوریا کو دنیا میں نیند کی کمی کے شکار بڑے ملک کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔

اس سال یہ مقابلہ ایک ایسے شخص نے جیتا جس کی عمر 80 سال سے زائد تھی۔

ایک 37 سالہ آفس ورکر ہوانگ ڈو سیونگ دوسرے نمبر پر آیا جس کا کہنا تھا کہ وہ یہاں نائٹ شفٹ کے بعد تھکا ہوا آیا تھا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker