انٹرنیشنل

عراق کا آبنائے ہرمز سے آنیوالے خام تیل کے خریداروں کیلئے بڑی رعایت کا اعلان

عراق نے آبنائے ہرمز سے آنے والے خریداروں کے لیے اپنے خام تیل پر غیر معمولی رعایت کا اعلان کردیا۔

بلوم برگ کے مطابق تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کے دوسرے بڑے تیل پیدا کرنے والے ملک عراق نے اپنے خام تیل پر غیر معمولی رعایتوں کا اعلان کیا ہے۔

یہ رعایت خاص طور پر اس خام تیل پر دی جا رہی ہے جس کی ترسیل آبنائے ہرمز کے ذریعےکی جائےگی۔

عراقی سرکاری ادارہ اسٹیٹ آرگنائزیشن فار مارکیٹنگ آف آئل (SOMO) نے 3 مئی کے نوٹس میں بتایا کہ مئی کے آغاز میں لوڈ ہونے والے بصرہ میڈیم خام تیل پر 33.40 ڈالر فی بیرل تک رعایت دی جا رہی ہے، جب کہ 11 سے 31 مئی کے درمیان یہ رعایت 26 ڈالر فی بیرل ہوگی۔

اسی طرح بصرہ ہیوی خام تیل مئی میں لوڈنگ کے لیے 30 ڈالر فی بیرل کم قیمت پر پیش کیا جا رہا ہے۔

اس وقت بصرہ میڈیم خام تیل121.73 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہورہا ہے جب کہ بصرہ ہیوی 121.72 ڈالر فی بیرل میں دستیاب ہے۔

خیال رہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عراق کی تیل پیداوار اور برآمدات شدید متاثر ہوئی ہیں۔ چونکہ عراقی خام تیل کی ترسیل کا بنیادی راستہ یہی آبی گزرگاہ ہے، اس لیے سپلائی چین میں بڑی رکاوٹ پیدا ہوگئی ہے۔

عراق ان خلیجی ممالک میں شامل تھا جنہوں نے سب سے پہلے اپنی تیل پیداوار کم کی۔ اس وقت وہ اپنی کچھ برآمدات ترکیے کے بحیرہ روم کے ساحل تک پائپ لائن کے ذریعے بھیج رہا ہے، تاہم اس کی اہم برآمدی بندرگاہ بصرہ سے تیل کی برآمدات محدود ہو چکی ہے ۔

اگرچہ ایران کی پاسداران انقلاب کے ساتھ دوطرفہ معاہدوں کے تحت کچھ کارگو مشرق کی طرف بھیجے گئے ہیں تاہم خلیج میں داخل ہونے والے جہازوں کی آمد تقریباً رکی ہوئی ہے، جبکہ بڑھتی ہوئی کشیدگی، ممکنہ ناکہ بندی، امریکی منصوبہ پراجیکٹ فریڈم، اس کے خلاف ایرانی دھمکیاں اور آبنائے ہرمز میں ایران کے بڑھتے ہوئے کنٹرول نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker