کیا آبنائے ہرمز میں امریکا ‘خودکش ڈولفنز’ استعمال کر رہا ہے؟
واشنگٹن : آبنائے ہرمز میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سمندری بارودی سرنگوں کی موجودگی کے خدشات کے دوران ایک عجیب و غریب بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا اس ممکنہ بحری جنگ میں تربیت یافتہ ڈولفنز مچھلیاں بھی حصہ لے رہی ہیں؟

منگل کوامریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ سے جب ایک پریس کانفرنس کے دوران سوال کیا گیا کہ کیا ایران امریکی بحریہ کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈولفنز کا سہارا لے سکتا ہے، تو انہوں نے دلچسپ جواب دیا۔
ہیگستھ نے تصدیق کی کہ ایران کے پاس ایسی کارروائیوں کے لیے فی الحال ڈولفنز موجود نہیں ہیں، تاہم جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا خود امریکا کے پاس ‘کامیکازی’ (خودکش) ڈولفنز ہیں، تو انہوں نے اس کی نہ تو تصدیق کی اور نہ ہی تردید۔
امریکی بحریہ کا ‘مرین میمل پروگرام’
امریکی ٹی وی سی این این کے مطابق اگرچہ امریکی حکام آبنائے ہرمز میں ڈولفنز کے فوری استعمال کی تردید کرتے ہیں لیکن امریکی بحریہ دہائیوں سے ڈولفنز کو بارودی سرنگوں کی نشاندہی کے لیے تربیت دینے کا ایک باقاعدہ پروگرام چلا رہی ہے۔
نیول انفارمیشن وارفیئر سینٹر پیسیفک کے زیر اہتمام یہ پروگرام 1959 سے جاری ہے۔ ماہرین کے مطابق ڈولفنز کا قدرتی سونار سائنس کی معلوم ٹیکنالوجی سے کہیں زیادہ جدید ہے، جس کے سامنے زیرِ آب ڈرونز بھی مات کھا جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مچھلیاں بارودی سرنگوں کو خود پھاڑتی نہیں ہیں (یعنی یہ خودکش نہیں ہیں)، بلکہ یہ سمندر کی تہہ میں موجود بارودی سرنگوں کی نشاندہی کرتی ہیں تاکہ غوطہ خور انہیں ناکارہ بنا سکیں۔ یہ ڈولفنز گدلے اور اندھیرے پانی میں بھی دیکھنے اور سننے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتی ہیں۔
ایران اور ڈولفنز کا استعمال
رپورٹس کے مطابق ایران نے سنہ 2000 میں روس سے کچھ ڈولفنز خریدی تھیں، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ وہ اب اتنی بوڑھی ہو چکی ہوں گی کہ فوجی مقاصد کے لیے کارآمد نہیں رہیں۔ اگرچہ وال اسٹریٹ جنرل نے گزشتہ ماہ رپورٹ دی تھی کہ ایران آبنائے ہرمز کھولنے کی امریکی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے بارودی سرنگیں بچھانے والی ڈولفنز کے استعمال پر غور کر رہا ہے، لیکن تاحال اس کے فعال ہونے کے کوئی شواہد نہیں ملے۔
آبنائے ہرمز میں حالیہ مہینوں میں حالات انتہائی کشیدہ رہے ہیں۔ مارچ میں ایران کی جانب سے بارودی سرنگیں بچھانے کی خبریں منظر عام پر آئی تھیں، جس کے بعد امریکی وزیر دفاع نے خبردار کیا تھا کہ یہ اقدام جنگ بندی کے عارضی معاہدے کی خلاف ورزی ہے اور امریکا اس سے "نمٹے گا”۔
RAND کارپوریشن کے سینیئر انجینئر اسکاٹ سیوٹز کا کہنا ہے کہ ڈولفنز کو عموماً فعال جنگی میدان میں استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ انہیں جنگ رکنے کے بعد بندرگاہوں کو صاف کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جیسا کہ 2003 میں عراق کی ام القصر بندرگاہ پر کیا گیا تھا۔
اس پروگرام پر تنقید کے جواب میں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ڈولفنز اور سمندری لائنز (Sea Lions) اپنی مرضی سے پروگرام کا حصہ رہتی ہیں۔ جب انہیں کھلے سمندر میں مشقوں کے لیے چھوڑا جاتا ہے تو وہ شکاریوں سے تحفظ اور خوراک کی خاطر خود واپس آتی ہیں، ورنہ وہ کسی بھی وقت جنگل (یعنی سمندر) میں واپس جا سکتی ہیں۔



