بلوچستان

سنو نیوز کا بیورو آفس بند : بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کی کوئٹہ میں سنو نیوز کا بیورو آفس بند کرنے صحافیوں اور دیگر ملازمین کو اچانک ملازمت سے نکالنے کی شدید الفاظ میں مذمت

بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کی کوئٹہ میں سنو نیوز کا بیورو آفس بند کرنے صحافیوں اور دیگر ملازمین کو اچانک ملازمت سے نکالنے کی شدید الفاظ میں مذمت

سنو نیوز انتظامیہ نے بیورو آفس میں کام کرنے والے 2 رپورٹرز اور 2 کیمرہ مینوں سمیت 9 ملازمین کو بیک جنبشِ قلم غیر قانونی طریقے سے ملازمتوں سے فارغ کیا ہے ناقابل برداشت عمل ہے، بی یو جے قیادت

*
وفاقی اور صوبائی حکومتیں، پیمرا، سنو نیوز انتظامیہ کے غیر قانونی اور آمرانہ اقدام کو سختی سے نوٹس لے ۔ بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کا مطالبہ*
*
جن نیوز چینلز نے بلوچستان میں اپنے بیورو دفاتر بند کردئیے ہیں سیاسی جماعتیں ان کا بائیکاٹ کریں، مشترکہ مذمتی بیان*

کوئٹہ ( پ ر) بلوچستان یونین آف جرنلسٹس نے سنو نیوز کوئٹہ بیورو میں صحافیوں سمیت 9 ملازمین کو بیک جنبشِ قلم ملازمتوں سے فوری فارغ کرنے کے اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے سنو انتظامیہ کے اس اقدام کو جابرانہ ، ظالمانہ اور غیر قانونی قرار دیا ہے ۔ بی یو جے کے صدر منظور احمد رند ، جنرل سیکرٹری شاہ حسین ترین اور کابینہ و مجلس عاملہ کے اراکین نے مشترکہ بیان میں کہاہے کہ سنو نیوز انتظامیہ نے کوئٹہ بیورو کو بند کردیا ہے جس کے نتیجے میں وہاں کام کرنے والے 2 رپورٹرز اور 2 کیمرہ مینوں سمیت 9 ملازمین بے روز گار ہوگئے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سنو نیوز انتظامیہ کا یہ اقدام نہ صرف غیر قانونی بلکہ ظالمانہ اورجابرانہ ہے سنو انتظامیہ کے اس اقدام نے ثابت کردیا ہے کہ ملک میں آئین اور قانون صرف کتابوں اور کاغذوں تک محدود ہوکر رہ گیا ہے ۔
بی یو جے نے خبر دار کیا ہے کہ سنو انتظامیہ کے اس جابرانہ فیصلے کے خلاف ہر سطح پر آواز اٹھائی جائے گی قیادت نکالے جانے والے صحافیوں کیساتھ ہے، صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے حقوق و روز گار کے تحفظ کیلئے بھرپور احتجاج کیا جائے گا ۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سنو نیوز کا یہ اقدام ماضی میں ٹی وی چینلز انتظامیہ کی جانب سے کوئٹہ میں اپنے بیوروز بند کرکے ملازمین کو روزگار سے محروم کرنے کا تسلسل ہے اس سے قبل ڈان ٹی وی ، 24 نیوز ، بول نیوز ، کیپٹل ٹی وی، پبلک نیوز، اوراب تک نیوز سمیت متعدد ٹی وی چینلز نے کوئٹہ میں اپنے بیورو دفاتر بند کرکے بڑی تعداد میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو ملازمتوں سے بے روز گار کردیا بلوچستان جیسے وسیع و عریض صوبے کی خبروں کیلئے ان اداروں نے ایک ایک رپورٹر یا کیمرہ مین رکھے ہوئے ہیں جبکہ وفاقی حکومت ٹی وی چینلز کے ان جابرانہ اور غیر قانونی اقدامات پر خاموش تماشائی بنی رہی ۔ اب ایک بار پھر ٹی وی چینلز مالکان نے بیورو افسز کو بند کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے اگر وفاقی حکومت ماضی میں ٹی وی چینلز مالکان کے غیر قانونی اقدامات اور ملازمین کو بے روزگار کرنے کا سختی سے نوٹس لیتی تو آج نوبت یہاں تک نہ پہنچتی ۔ بیان میں کہا گیا ہے حالیہ دنوں میں دنیا ٹی وی کوئٹہ بیورو میں بھی 5 ملازمین کو روزگار سے فارغ کرنے کیلئے نوٹسز جاری کئے گئے ہیں جبکہ سماء ٹی وی میں بھی تھرڈ پارٹی آڈٹ کے نام پر صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو ملازمتوں سے فارغ کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے ۔ بیان میں وفاقی حکومت، وفاقی وزارت اطلاعات ، سینٹ کی قائمہ۔کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات پیمرا اور بلوچستان حکومت سے مطالبہ کیا گیاہے کہ ٹی وی چینلز کی جانب سے بیورو دفاتر بند کرنے کے اقدامات کا سختی سے نوٹس لیکر ان سے جواب طلب کیا جائے اور بند کئے گئے بیورو دفاتر دوبارہ کھول کر بے روزگار کئے گئے ملازمین کو فوری بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔بی یو جے نے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کو فوری طور پر وفاقی حکومت اور وفاقی وزیر اطلاعات کے ساتھ اٹھائے ۔ بی یو جے نے بلوچستان اور ملک بھر کی سیاسی جماعتوں سے اپیل کی ہے وہ ملازمین کو فارغ کرنے اور صوبے میں بیورو آفسز بند کرنے والے ٹی وی چینلز کا مکمل بائیکاٹ کریں جبکہ قومی اسمبلی اور سینٹ میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف سے مطالبہ کیا گیاہے کہ وہ ٹی وی چینلز انتظامیہ کے اس رویے پر ایوان بالا اور ایوان زیریں میں بحث کرواکر یہ سلسلہ فوری رکوائے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker