صحت

ذیابیطس جیسے عام مرض سے محفوظ رہنے کا آسان طریقہ

ذیابیطس ٹائپ 2 ایسی بیماری ہے جس کے دوران لبلبہ مناسب مقدار میں انسولین نہیں بناتا یا انسولین کو درست طریقے سے استعمال نہیں کر پاتا۔

اس کے نتیجے میں بلڈ شوگر کی سطح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوتا ہے جس سے وقت گزرنے کے ساتھ اعضا کو نقصان پہنچتا ہے۔

اگر بلڈ شوگر کی سطح کو کنٹرول نہ کیا جائے تو امراض قلب، بینائی سے محرومی، اعصاب اور اعضا کو نقصان پہنچنے سمیت دیگر پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھتا ہے۔

تاہم اگر آپ ذیابیطس جیسے دائمی مرض سے خود کو ہمیشہ محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو ایک غذائی پلان اس حوالے سے بہترین ثابت ہوتا ہے۔

جی ہاں اگر Mediterranean ڈائٹ کو معمول بنا لیا جائے تو اس دائمی مرض سے خود کو محفوظ رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

جرنل Annals of Internal Medicine میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ بحیرہ روم کے خطے کے رہائشیوں کی غذا کو معمول بنانے سے ذیابیطس ٹائپ سے متاثر ہونے کا خطرہ 31 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔

اسپین، یونان، اٹلی اور فرانس جیسے ممالک کے شہریوں کی یہ عام غذا پھلوں، سبزیوں، اجناس، گریوں، مچھلی، زیتون کے تیل وغیرہ پر مشتمل ہوتی ہے (سرخ گوشت کا استعمال بہت کم کیا جاتا ہے)۔

اس تحقیق میں شامل افراد کو ایک کلینیکل ٹرائل کا حصہ بنایا گیا اور دریافت ہوا کہ Mediterranean ڈائٹ ذیابیطس سے بچانے کے لیے بہترین ہوتی ہے۔

اس تحقیق میں 55 سے 75 سال کی عمر کے 4746 افراد کو شامل کیا گیا۔

یہ سب موٹاپے یا زیادہ جسمانی وزن کے مالک تھے مگر تحقیق کے آغاز میں ذیابیطس یا امراض قلب کے شکار نہیں تھے۔

اس کے بعد ان افراد کی صحت کا جائزہ 6 سال تک لیا گیا اور دیکھا گیا کہ Mediterranean ڈائٹ کے استعمال سے ذیابیطس سے کس حد تک تحفظ ملتا ہے۔

ان افراد کو 2 گروپس میں تقسیم کیا گیا اور ایک گروپ کو محدود کیلوریز پر مشتمل Mediterranean ڈائٹ کا استعمال کرایا گیا جبکہ معتدل جسمانی سرگرمیوں کو اپنانے کی ہدایت کی گئی۔

دوسرے گروپ کو روایتی Mediterranean ڈائٹ استعمال کرائی گئی اور کیلوریز کو محدود نہیں کیا گیا اور نہ ہی ورزش کرنے کی ہدایت کی گئی۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ پہلے گروپ میں ذیابیطس سے متاثر ہونے کا خطرہ 31 فیصد تک گھٹ گیا جبکہ ان کے جسمانی وزن اور توند کی چربی میں بھی زیادہ کمی آئی۔

اس سے قبل نومبر 2023 میں برٹش جرنل آف اسپورٹس میڈیسن میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ چہل قدمی خاص طور پر تیز رفتاری سے چلنے کی عادت ذیابیطس ٹائپ 2 سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ تیز رفتاری سے چہل قدمی سے ذیابیطس ٹائپ 2 سے متاثر ہونے کا خطرہ لگ بھگ 40 فیصد تک گھٹ جاتا ہے۔

اس تحقیق میں 1999 سے 2022 کے دوران ہونے والے تحقیقی کام کا تجزیہ کیا گیا۔

اس تحقیقی کام میں چہل قدمی کی رفتار اور ذیابیطس ٹائپ 2 سے متاثر ہونے کے خطرے کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا تھا۔

بعد ازاں محققین نے مختلف افراد میں چہل قدمی کی کم، معتدل اور زیادہ رفتار کے اثرات کی جانچ پڑتال کی۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ عام رفتار (2 میل فی گھنٹہ سے کم رفتار) سے چہل قدمی کرنے سے ذیابیطس ٹائپ 2 سے متاثر ہونے کا خطرہ 15 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔

اسی طرح معتدل (2 سے 3 میل فی گھنٹہ) رفتار سے چلنے سے اس دائمی مرض کا خطرہ 24 فیصد تک گھٹ جاتا ہے۔

اس کے مقابلے میں تیز رفتاری (3 سے 4 میل فی گھنٹہ) سے چہل قدمی کرنے کے عادی افراد میں ذیابیطس ٹائپ 2 سے متاثر ہونے کا خطرہ 39 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔

تحقیق میں چہل قدمی سے ذیابیطس کے خطرے میں کمی آنے کی وجوہات بیان نہیں کی گئیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker