
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی تہذیب کو اجاڑنے کی دھمکی سے یورپ اور ایشیا کو خطرات پیدا ہوگئے تھے کہ ٹرمپ ایران پر کہیں نیوکلیئر حملہ نہ کردیں۔
برطانوی خبرایجنسی نے دعویٰ کیا کہ یورپی ممالک نے امریکی محکمہ خارجہ سے رابطہ بھی کیا تھا جس پر انہیں جواب ملا کہ محکمہ خارجہ پر یہ بات واضح نہیں کہ صدر ٹرمپ کی اس بات کا مطلب کیا ہے یا ٹرمپ کے اس بیان کےاثرات کیا ہوں گے۔
خبرایجنسی کے مطابق برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے حکام نے مشترکہ طور پر انتہائی سخت بیان تیار کرلیا تھا تاہم امریکا کو دوٹوک انداز سے خبردارکرنے سے متعلق یہ بیان میڈیا پر جاری کرنے سے روک لیا گیا تھا۔
بعدازاں اسی شام کو صدر ٹرمپ نے جنگ بندی کا اعلان کردیا تھا، جس کے بعد یورپی اور ایشیائی ممالک نے سکھ کا سانس لیا۔



