دلچسپ و عجیب

آخر بیشتر افراد رائٹ ہینڈڈ کیوں ہوتے ہیں؟ نئی تحقیق میں وجہ سامنے آگئی

کرکٹ میں آپ نے دیکھا ہوگا کہ کچھ بیٹرز کو رائٹ ہینڈڈ جبکہ کچھ کو لیفٹ ہینڈڈ کہا جاتا ہے۔

مگر کیا وجہ ہے کہ اکثر افراد رائٹ ہینڈر ہوتے ہیں؟

ایک تخمینے کے مطابق دنیا بھر میں ہر 10 میں سے 9 افراد ایسے ہوتے ہیں جو روزمرہ کے کام دائیں ہاتھ سے کرتے ہیں۔

اس حوالے سے دہائیوں سے تحقیقی کام ہو رہا ہے مگر اب بھی یہ ایک اسرار ہے کہ بیشتر فراد رائٹ ہینڈڈ کیوں ہوتے ہیں۔

مگر ایک نئی تحقیق میں اس کا جواب دیا گیا ہے۔

برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ہمارا دماغ اس حوالے سے کردار ادا کرتا ہے۔

اس تحقیق میں بتایا گیا کہ دماغ کے کچھ مخصوص خطے رائٹ ہینڈڈ کا باعث بنتے ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ زمانہ قدیم میں جب انسانوں نے چلنا شروع کیا تو ہماری بالادست ہاتھ کے حوالے سے ترجیح دیگر جانوروں کے مقابلے میں مختلف تھی۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ بالادست ہاتھ کو ترجیح دینے کا عمل ماں کے پیٹ سے شروع ہوتا ہے اور لڑکپن کے عرصے تک ٹھوس ہو جاتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ فطری میلان کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی اور نشوونما سے جڑے عناصر بھی اس حوالے سے کردار ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ وہ مکمل طور پر یہ سمجھ نہیں سکے کہ آخر انسان کیوں جسم کے ایک حصے کے استعمال کو ترجیح دیتے ہیں مگر تحقیق میں اس حوالے سے ایک اہم سراغ کا انکشاف ہوا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ یہ پہلی تحقیق ہے جس میں بالادست ہاتھ کے حوالے سے انسانی ترجیح کے متعدد پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ ایسا ممکنہ طور پر ان عناصر سے جڑا ہے جو ہمیں انسان بناتے ہیں خاص طورپر سیدھا چلنے اور بڑے انسانی دماغ کا ارتقا۔

تحقیق میں چھوٹے دماغی حجم، کم سیدھا چلنے اور بالادست ہاتھ کے حوالے سے لچکدار ترجیح کے تعلق کا انکشاف کیا گیا۔

محققین کے مطابق اگر آپ دائیں کی جگہ بائیں ہاتھ کو استعمال کرنے لگتے ہیں تو دماغی افعال میں بھی تبدیلیاں آتی ہیں۔

اس حوالے سے ماضی میں ہونے والے تحقیقی کام میں بتایا گیا کہ ایسا سماجی دباؤ کا نتیجہ ہے جو ہزاروں برسوں سے ہمارے معاشرے میں موجود ہے۔

یعنی معاشرے میں دائیں بازو کو استعمال کرنے والے افراد کا غلبہ ہے اور ان کے مطابق ہی ٹولز اور اشیا تیار کی جاتی ہیں، یہی دباؤ نسل در نسل منتقل ہو جاتا ہے۔

کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ دماغ میں چھپی ہے۔

ہمارے دماغ کا بایاں حصہ جسم کے دائیں حصے کو کنٹرول کرتا ہے جبکہ دماغ کا دایاں حصہ جسم کے بائیں حصے کو کنٹرول کرتا ہے۔

تو بیشتر افراد دماغ کے بائیں حصے کو زیادہ استعمال کرتے ہیں جو زبان اور دیگر صلاحیتوں سے جڑا ہوتا ہے جس کے نتیجے میں لوگوں کا دایاں ہاتھ بالادست ہو جاتا ہے۔

اگرچہ اس حوالے سے جینز کا کردار اہم تصور کیا جاتا ہے مگر لیفٹ ہینڈڈ والدین کے ہاں رائٹ ہینڈڈ بچے کی پیدائش کا امکان زیادہ ہوتا ہے، یہ بات سائنسدانوں کے ذہنوں کو چکرا دیتی ہے۔

محققین اب تک ان جینز کی بھی نشاندہی نہیں کر سکے جو کسی فرد کے لیفٹ ہینڈڈ ہونے کے امکان کو بڑھاتے ہیں۔

2019 میں 4 لاکھ افراد کے ڈیٹا پر مبنی ایک تحقیق میں ایسے 4 جینیاتی خطوں کا انکشاف کیا گیا تھا جو دائیں یا بائیں ہاتھ کے بالادست ہونے سے منسلک ہوتے ہیں۔

مگر دیگر تحقیقی رپورٹس میں عندیہ دیا گیا کہ ایسے درجنوں جینز ہو سکتے ہیں جو کسی کے دائیں یا بائیں ہاتھ سے لکھنے یا کھیلنے کا تعین کرتے ہیں۔

ان سے بھی ہٹ کر کچھ تحقیقی رپورٹس میں کہا گیا کہ بچے بڑے ہونے پر بائیں ہاتھ کے استعمال کو زیادہ ترجیح دیں گے یا سیدھے ہاتھ کو، اس کا تعین ماں کے پیٹ میں ہی ہوجاتا ہے۔

تو اس ساری بحث کا مختصر جواب یہ ہے کہ اس بارے میں کافی خیالات موجود ہیں اور محققین کو انہیں اکٹھا کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

یعنی ابھی وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس کی اصل وجہ کیا ہے مگر ان کی جانب سے جواب جاننے کے لیے سخت محنت ضرور کی جار ہی ہے۔

ویسے جب اس سوال کا جواب مل جائے گا تو ان کے سامنے یہ مسئلہ ہوگا کہ آخر کچھ افراد دونوں ہاتھوں کو ایک جیسے انداز سے استعمال کرنے کی صلاحیت کیوں رکھتے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker