تاحکم ثانی ون کانسٹیٹیوشن ایونیو اپارٹمنٹ مالکان کو بے دخل نہ کیا جائے: اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد ہائیکورٹ نے تاحکم ثانی ون کانسٹیٹیوشن ایونیو اپارٹمنٹ کے مالکان کو بے دخل کرنے سے روکنے کا حکم دے دیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محمد اعظم خان اور جسٹس انعام امین منہاس پر مشتمل ڈویژن بینچ نے سابق ائیر چیف مجاہد انور خان، سابق صدر آئی سی سی احسان مانی اور سابق چیئرمین سینیٹ وسیم سجاد سمیت دیگر کی انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت کی۔
سی ڈی اے کے وکیل کاشف علی ملک نے بتایا چیئرمین سی ڈی اے بیرون ملک تھے کل ہی واپس آئے، اس کے باجود میں نے اس حوالے سے جواب جمع کرا دیا ہے۔
جسٹس انعام امین منہاس نے کہاکہ مکمل کیس تو بعد میں سنیں گے اسٹے کی حد تک ان کی درخواست ہم نے آج دیکھنی ہے، اس پر سی ڈی اے وکیل کاشف ملک نے کہاکہ ہمارا مؤقف ہے کہ یہ اپیلیں قابل سماعت نہیں۔
جسٹس انعام امین منہاس نے کہاکہ جب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں تھا تو کیا ان اپارٹمنٹ مالکان کے معاملے کو دیکھا گیا تھا؟ انہوں نے جس آرڈر کو چیلنج کیا ہے اس کے مطابق بھی ان کا رائٹ تو موجود ہے۔ وکیل کاشف ملک نے کہاکہ اس پیراگراف کے ساتھ ساتھ سنگل بینچ کا مکمل فیصلہ پڑھنا پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیں
اسلام آباد ہائیکورٹ: ون کانسٹیٹیوشن ایونیوکیس کا تحریری فیصلہ جاری، لیز منسوخی کیخلاف درخواست مسترد
ون کانسٹیٹیوشن ایونیو معاملے پر اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم، وزیراعظم نے حتمی فیصلے تک کارروائی سے روک دیا
جسٹس انعام امین منہاس نے سی ڈی اے وکیل سے استفسار کیاکہ آپ نے ایڈمنسٹریٹر کب تعینات کیا؟ وکیل علی رضا نے عدالت کو بتایاکہ 12 مارچ 2023 کو سی ڈی اے نے ایڈمنسٹریٹر تعینات کیا تھا۔
وکیل سردار تیمور اسلم نے کہاکہ سی ڈی اے بورڈ کی ہدایات کے لیے سی ڈی اے نے آج تک وقت مانگا تھا، ان کے بقول چیئرمین سی ڈی اے بیرون ملک تھے بورڈ میٹنگ کا معاملہ تو بعد کا ہے، ریزیڈنس کمیٹی بنائی گئی تھی جو بلڈنگ چلا رہی تھی، ہماری گزارش صرف اتنی ہے کہ سی ڈی اے کو تو مسئلہ ہی نہیں ہونا چاہیے، وزیر اعظم نے بھی کمیٹی بنائی ہوئی ہے ان کی سفارشات آنی ہے کابینہ سے منظوری ہونی ہے پھر وہ معاملہ سی ڈی اے بورڈ میں جانا ہے،کیا یہ چاہتے ہیں کہ عید کے دنوں میں انہوں نے قبضہ لینا ہے؟
علی رضا ایڈووکیٹ نے کہاکہ سی ڈی اے مالکان کے رائٹس کو اس سے قبل سی ڈی اے مان چکا ہے،15 یا 18 فیصد لیز کی رقم بھی سی ڈی اے وصول کر چکا ہے۔
جسٹس انعام امین منہاس نے کہاکہ جو لوگ اس بلڈنگ میں داخل ہوئے آپ نے ان کو recognise کیوں کیا ؟ جسٹس محمد اعظم خان نے استفسار کیاکہ کیا اس بلڈنگ کو مکمل کرنے کا سرٹیفکیٹ ملا تھا ؟ جس پر سی ڈی اے وکیل کاشف ملک نے کہاکہ ابھی تک اس بلڈنگ کو مکمل ہونے کا سرٹیفکیٹ نہیں ملا۔
جسٹس محمد اعظم خان نے کہاکہ کیا سی ڈی اے سو رہا تھا جب مکمل کرنے کا سرٹیفکیٹ بھی نہیں ملا تھا اور رہائشیوں نے وہاں رہنا شروع کر دیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے کہاکہ اگر بی این پی سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف اپیل نہیں کرتا تو کیا ان کا کوئی رائٹ نہیں ہو گا؟ وکیل سی ڈی اے کاشف ملک نے کہاکہ قانون کا کیس ہے ان کی اپیلیں قابل سماعت نہیں ہیں۔ دلائل سننے کے بعد عدالت نے اپارٹمنٹ مالکان کو بے دخلی سے روکتے ہوئے حکم دیا کہ تاحکم ثانی ون کانسٹیٹیوشن ایونیو اپارٹمنٹ مالکان کو بے دخل نہ کیا جائے۔



