گلگت بلتستان انتخابات، کون آگے کون پیچھے؟ نتائج آنے کا سلسلہ شروع
گلگت بلتستان انتخابات کے لیے 24 جنرل نشستوں پر پولنگ کا وقت ختم ہوگیا۔ پولنگ کا عمل صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک بلاتعطل جاری رہا۔ بڑی تعداد میں عوام نےجوش و خروش کے ساتھ پولنگ مراکز کا رخ کیا۔ انتخابات میں 24 نشستوں پر چناؤ کیلئے پولنگ کے بعد گنتی جاری ہے۔ غیرحتمی غیرسرکاری نتائج آنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

خواتین نے بھی بڑی تعداد میں انتخابی عمل میں حصہ لیا۔ معمر اور خصوصی افراد بھی کسی سے پیچھے نہ رہے۔ دن بھر پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز کی لمبی لمبی قطاریں نظر آئیں۔ مجموعی طور پر امن و امان کی صورتحال بہتر رہی۔ پیپلزپارٹی ۔ ن لیگ اور استحکام پاکستان پارٹی کے درمیان کانٹے کا مقابلہ نظر آیا۔
الیکشن میں 8 خواتین سمیت مجموعی طور پر 403 امیدوار میدان میں ہیں، جبکہ 9 لاکھ 63 ہزار سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز اپنے نمائندوں کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں 1391 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں، 349 پولنگ اسٹیشن حساس اور 551 انتہائی حساس قرار دیے گئے ہیں۔
پیپلز پارٹی 23 ، ن لیگ 22، استحکامِ پاکستان پارٹی 15، پاکستان مسلم لیگ11 اور جے یو آئی ف کے 9 امیدوار میدان میں ہیں۔ ایم ڈبلیو ایم 7، جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کے 6 ،6 امیدوار انتخابی دوڑ میں شامل ہیں جبکہ 266 آزاد امیدوار بھی مختلف حلقوں سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔
انتخابات کو پر امن بنانے کے لیے سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات انتخابات کیے گئے ہیں،مقامی پولیس، جی بی اسکاؤٹس اور پنجاب پولیس کی بھاری نفری بھی سکیورٹی کے لیے موجود ہے۔



