
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نےکہا ہےکہ جنگ ایران کے مفاد میں نہیں ہے لیکن دھمکیوں سے جھکنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا، دشمن کا یہ خواب ہےکہ ایران بیرونی جارحیت کے سامنے جھک جائےگا۔
تہران میں آیت اللہ خمینی کی برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، طویل جنگ ایران کے مفاد میں نہیں، لیکن اگر ملک پر حملہ کیا گیا تو ایران کبھی ہتھیار نہیں ڈالےگا، ایران خودمختاری اور قومی وقار پرکسی قسم کا سمجھوتہ بھی قبول نہیں کرےگا، ہمیں اس غیریقینی صورتحال سے نکلنا ہوگا جہاں نہ مکمل جنگ ہے اور نہ ہی پائیدار امن، حکومت قومی خودمختاری کو برقرار رکھتے ہوئے سفارتی تعطل کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ اگر وہ جارحیت کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو ہم ہرگز پسپائی اختیار نہیں کریں گے، وہ اس خواہش کو صرف ایک خواب ہی سمجھیں، ہمیں اپنے اندرونی اتحاد اور قومی یکجہتی کو محفوظ رکھنا ہوگا، دشمن اس امید میں ہےکہ وہ ہمارے درمیان تقسیم پیدا کرکے اپنے مقاصد حاصل کرلےگا۔
مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ خطےکے عرب ممالک کو ایران کے خلاف متحد کرنےکا دشمن کا منصوبہ بھی ناکام ثابت ہوا، ایرانی قیادت کی دانشمندانہ سفارت کاری کی وجہ سے یہ حکمت عملی ناکام ہوگئی۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی ملک کو طیاروں، بمباری کے ذریعے سرینڈر کرنے پر مجبور نہیں کیاجاسکتا، وہ غزہ کو تین سال بعد بھی سرینڈرکرنے پر مجبور نہیں کرسکے، وہ ایران کو مجبور کرکے سرینڈر کرنے کی توقع کیسےکرسکتے ہیں، ایران یقینی طور پر ایسا ملک نہیں جو جھک جائے۔
ایرانی صدر کا مزید کہنا تھا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے حکومت کو مذاکراتی عمل آگے بڑھانے کی واضح اجازت دی تھی اور ہدایت دی تھی کہ جاؤ اور اس مسئلےکو حل کرو۔‘



