پاکستان

حکومت نے ملک بھر میں گروسری اور کریانہ اسٹورز رات 10 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دیدی

وفاقی حکومت کی جانب سے ملک بھر میں گروسری و کریانہ اسٹورز رات 10 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دیدی گئی، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں گروسری اور کریانہ اسٹورز سمیت قونصلر خدمات کے حوالے سے نئی پالیسیوں اور سفارشات کو حتمی شکل دے دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت ایندھن کی بچت اور اضافی کفایت شعاری اقدامات پر ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں ملک کی مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کی جانب سے کفایت شعاری اقدامات میں استثنیٰ کے لیے دی جانے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس کے بعد پبلک اور بزنس سیکٹر کے لیے نئی گائیڈ لائنز جاری کر دی گئی ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ توانائی اور ایندھن کی بچت کے لیے حکومت نے تجارتی مراکز کے اوقاتِ کار میں نرمی کرتے ہوئے ملک بھر میں تمام گروسری، جنرل اور کریانہ اسٹورز کو رات 10 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دے دی ہے، جس کے بعد انہیں لازمی بند کرنا ہوگا، نئے اوقاتِ کار ہفتے کے تمام دنوں بشمول ہفتہ اور اتوار کو بھی من و عن نافذ العمل ہوں گے اور کسی کو استثنیٰ نہیں دیا جائے گا۔

دوسری جانب شہریوں کو ریلیف دینے اور سمندر پار پاکستانیوں کی سہولت کے لیے وزارتِ خارجہ کے دفاتر کے حوالے سے ایک بڑا اور مثبت فیصلہ کیا گیا ہے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اعلان کیا کہ عوامی سہولت کے لیے قونصلر خدمات کے اوقات کار میں توسیع کر دی گئی ہے، اب وزارتِ خارجہ اور اس کے رابطہ دفاتر میں قونصلر تصدیقی خدمات یعنی ڈاکومنٹس کی اٹی سٹیشن جمعہ کے روز بھی جاری رہیں گی، یہ قونصلر سروسز وفاقی دارالحکومت کے علاوہ کوئٹہ، کراچی، پشاور، گجرات اور لاہور کے رابطہ دفاتر میں بھی جمعہ کے دن شہریوں کو دستیاب ہوں گی۔
معلوم ہوا ہے کہ اجلاس کے دوران ملکی معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے سرکاری اخراجات کو قابو میں رکھنے پر بھی غور کیا گیا، کمیٹی نے مختلف کیسز پر تفصیلی غور و خوض کے بعد سفارش کی ہے کہ حکومت کی جانب سے نافذ کیے گئے اضافی کفایت شعاری اقدامات کی مدت میں 30 جون 2026ء تک توسیع کر دی جائے، حکومت کا ماننا ہے کہ دکانوں کو رات جلد بند کرنے سے قیمتی ایندھن اور بجلی کی بچت ہوگی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker