سیالکوٹ سے فٹبال ورلڈ کپ تک!پاکستانی کمپنی نے ایک اور کامیابی سمیٹ لی

دنیا بھر کے فٹبال شائقین کی نظریں اس وقت امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ 2026 پر جمی ہیں، تاہم اس میگا ایونٹ کا ایک اہم کردار پاکستان کے شہر سیالکوٹ سے تعلق رکھتا ہے، جہاں ٹورنامنٹ کا سرکاری فٹبال تیار کیا گیا ہے۔
سیالکوٹ کی معروف کمپنی ’’فارورڈ اسپورٹس‘‘ کو مسلسل چوتھی مرتبہ فیفا ورلڈ کپ کا آفیشل میچ بال تیار کرنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ کمپنی کے بانی خواجہ مسعود اختر، جو پیشے کے اعتبار سے سول انجینئر ہیں اور ماضی میں پاکستان ریلوے میں خدمات انجام دے چکے ہیں، نے 1991 میں صرف 20 ملازمین اور ایک کمرے سے اپنے کاروبار کا آغاز کیا تھا۔
برازیل کے میڈیا نے بھی لیاری میں فٹبال ورلڈ کپ کے جنون کا تذکرہ کر دیا
آج فارورڈ اسپورٹس سالانہ تقریباً 2 کروڑ 5 لاکھ فٹبال تیار کرتی ہے جبکہ 2014 کے برازیل ورلڈ کپ کے ’’برازوکا‘‘، 2018 کے روس ورلڈ کپ کے ’’ٹیل اسٹار 18‘‘، 2022 کے قطر ورلڈ کپ کے ’’الرحلہ‘‘ اور اب 2026 کے ’’ٹریونڈا‘‘ فٹبال کی تیاری بھی اسی کمپنی کے حصے میں آئی ۔
سیالکوٹ کو دنیا کا ’’فٹبال فیکٹری شہر‘‘ کہا جاتا ہے، جہاں عالمی سطح پر استعمال ہونے والے تقریباً 70 فیصد فٹبال تیار کیے جاتے ہیں۔ پاکستان سالانہ لگ بھگ 4 کروڑ فٹبال برآمد کرتا ہے جبکہ روزانہ تقریباً 3 لاکھ فٹبال دنیا بھر کی منڈیوں میں بھیجے جاتے ہیں۔
میکسیکو میں ایک بطخ نے فٹبال ورلڈ کپ چرا لیا
خواجہ مسعود اختر کے مطابق انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ وہ فٹبال سازی کی صنعت سے وابستہ ہوں گے، تاہم اپنے چچا کے مشورے پر اس شعبے میں قدم رکھا اور مسلسل محنت کے ذریعے کامیابی حاصل کی۔ ان کا کہنا ہے کہ 1994 میں ایڈیڈاس کے ساتھ شراکت داری نے کمپنی کی تقدیر بدل دی۔
فارورڈ اسپورٹس نے روایتی ہاتھ سے سلے جانے والے فٹبال سے جدید تھرمو بانڈڈ اور سینسر سے لیس ٹیکنالوجی تک کا سفر طے کیا ہے۔ کمپنی میں خواتین بھی بڑی تعداد میں کام کر رہی ہیں جنہیں خواجہ مسعود اختر ادارے کی کامیابی کا اہم ستون قرار دیتے ہیں۔
امریکی عدالت کا فٹبال ورلڈ کپ میں پرانا ایرانی پرچم لہرانے پر پابندی برقرار رکھنے کا حکم
دلچسپ امر یہ ہے کہ پاکستان کی قومی فٹبال ٹیم کبھی ورلڈ کپ میں جگہ نہیں بنا سکی، لیکن ہر چار سال بعد دنیا کے سب سے بڑے فٹبال میلے کی پہچان بننے والی گیند پاکستان ہی میں تیار کی جاتی ہے۔
خواجہ مسعود اختر کا کہنا ہے کہ کامیابی کا کوئی خفیہ فارمولا نہیں، عزم، محنت اور مستقل مزاجی کے ذریعے ہر منزل حاصل کی جا سکتی ہے۔



