امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں اچھی پیشرفت ہوئی ہے اور ایران نے ایٹمی توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو واپس بلانے پر اتفاق کرلیا ہے۔
سوئٹزرلینڈ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے امریکی نائب صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں اچھی پیشرفت ہوئی ہے اور آبنائے ہرمز کو باقاعدہ طور پر کھول دیا گیا ہے۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان تکنیکی مذاکرات شروع ہوگئے ہیں، تکنیکی ٹیمیں مختلف امور پر گفتگو کررہی ہیں، تکنیکی گفتگو آنے والے ہفتوں اور دنوں میں جاری رہیں گی، ہم نے ایک کامیاب حتمی معاہدے کے لیے ایک بہت مضبوط بنیاد رکھی ہے۔
امریکی نائب صدر نے ایران کیساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کیلئے شرائط بتادیں
امریکی نائب صدر نے کہا کہ لبنان معاملے پر مناسب ہم آہنگی کو یقینی بنانا چاہتے ہیں، ہم لبنان میں کشیدگی میں کمی کےلیے طریقہ کار پر گفتگو کررہے ہیں، ہم علاقائی جنگ بندی چاہتے ہیں، چاہتے ہیں ایران لبنان میں حزب اللہ کو کنٹرول میں رکھے۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے معائنہ کاروں کو واپس بلانے پر اتفاق کر لیا ہے، معائنہ کاروں کی تعیناتی اسی ہفتے شروع ہو سکتی ہے، ممکن ہے آج ہی اس کا آغاز ہوجائے۔
امریکی نائب صدر نے کہا کہ ایسا نظام قائم کرنا چاہتے تھے جس کے تحت ایرانی اثاثے ایرانی عوام کی مدد کے لیے استعمال ہوں اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے لیے استعمال نہ ہوں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کے حوالے جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ ٹرمپ سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ جواب نہ دیں اور حقائق کو درست نہ کریں۔



