آبنائے ہرمز پر لڑائی کے باعث ایران امریکا تکنیکی مذاکرات بے یقینی کا شکار
آبنائے ہرمز پر لڑائی کے باعث دوحا میں ایران امریکا تکنیکی مذاکرات بے یقینی کا شکار ہے۔

ایرانی نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی کا کہنا ہے کہ کل قطر میں تکنیکی ٹیموں کے مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہیں، تکینکی مذاکرات کا پہلا دور اُس وقت ہوگا جب حالات مناسب اورتاریخ و مقام پر اتفاق ہو جائے گا۔
کاظم غریب آبادی نے کہا کہ تکنیکی مذاکرات کیلئے قطر کے ساتھ مشاورت معمول کے مطابق جاری ہے۔ دوحا میں مذاکرات کے حوالے سے میڈیا کی خبروں کی تصدیق نہیں کرسکتے۔
قبل ازیں امریکی نیوز ویب سائٹ نے ایک سینیئر امریکی عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایرانی حکام کے درمیان کل دوحہ میں ملاقات متوقع ہے جس میں آبنائے ہرمز کا تنازع حل کرنے پر بات ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق ملاقات میں آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آزادانہ آمدورفت جاری رہے گی ۔ امریکی اور ایرانی فوج کے درمیان ہاٹ لائن تاحال فعال نہیں۔
واضح رہے کہ سوئٹزرلینڈ میں رواں ہفتے شیڈول امریکا ایران مذاکرات معطل ہوگئے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق شیڈول مذاکرات آبنائے ہرمز پر لڑائی کے باعث معطل ہوئے، مفاہمتی یادداشت کے بعد تکنیکی ٹیموں کے مذاکرات ہونے تھے۔
مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد فریقین نے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا تاہم پچھلے دو دن لگاتار جھڑپوں کے باعث مذاکرات کھٹائی میں پڑگئے۔



