بلوچستان

بلوچستان میں سرکاری و نجی اسکولوں میں جسمانی سزا پر مکمل پابندی عائد

کوئٹہ: بلوچستان میں سرکاری و نجی اسکولوں میں جسمانی سزا پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی۔

حکومت بلوچستان کے محکمہ تعلیم نے صوبے بھر کے تمام سرکاری اور نجی اسکولوں میں طلبہ کو جسمانی سزا دینے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے اور اس حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

محکمہ تعلیم کے اعلامیے کے مطابق اساتذہ اور اسکول اسٹاف کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بچوں کے ساتھ احترام، وقار اور مثبت رویہ اختیار کریں، جبکہ اسکولوں میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے دوستانہ، اصلاحی اور بچوں کے حقوق پر مبنی طریقہ کار اپنایا جائے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہر سرکاری اور نجی اسکول میں شکایات کے اندراج کے لیے کمپلینٹ رجسٹر قائم کیا جائے گا، جبکہ جسمانی سزا یا کسی بھی قسم کی بدسلوکی کی شکایت موصول ہونے پر فوری تحقیقات عمل میں لائی جائیں گی۔

محکمہ تعلیم نے واضح کیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں جسمانی سزا کے خاتمے کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔

واضح رہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں فروری کے مہینے میں بچوں کو جسمانی سزا دینے پر مکمل پابندی عائد کردی گئی تھی۔ سرکاری و نجی تعلیمی اداروں، دینی مدارس، بورڈنگ ہاؤسزاور بحالی مراکز میں بچوں سے ہر قسم کے ناروا سلوک کو قابلِ سزا جرم قرار دے گیا تھا۔

اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری جسمانی سزا کی ممانعت ایکٹ 2021 میں اہم ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے جس کے تحت سرکاری و نجی تعلیمی اداروں، دینی مدارس، بورڈنگ ہاؤسز، فوسٹر کیئر، ورک پلیسز اور بحالی مراکز میں بچوں سے ہر قسم کے ناروا سلوک کو قابلِ سزا جرم قرار دے دیا گیا ہے۔

لاہور میں 760 غیرقانونی تعلیمی اداروں کا انکشاف

سینیٹ سے منظور شدہ ترمیمی قانون کے مطابق بچے کو ڈرانے دھمکانے پر دو سال قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی، جبکہ مار پیٹ یا چوٹ پہنچانے کی صورت میں ایک سال قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوں گی۔ اگر چوٹ سنگین نوعیت کی ہو یا ہڈی ٹوٹ جائے تو سزا چوٹ کی نوعیت کے مطابق مقرر کی جائے گی۔

قانون کے تحت استاد یا مدرسہ عملہ اگر بلاجواز بچے پر ہاتھ اٹھائے تو اسے 3 ماہ قید، 500 روپے جرمانہ یا دونوں سزاؤں کا سامنا کرنا ہوگا۔ بچے کو ہاتھ یا کسی آلے، چھڑی، بیلٹ، جوتے یا لکڑی کے چمچ سے مارنا جرم قرار دیا گیا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker