کابینہ ڈویژن کا اپنے نام سے منسوب ہاؤسنگ سوسائٹی سے لاتعلقی کا اعلان
اسلام آباد: ایک غیر معمولی اقدام میں، جس کے عوام اور سرکاری اداروں دونوں کے لیے دور رس اثرات ہو سکتے ہیں، وفاقی حکومت کے اہم ترین اداروں میں سے ایک اور براہِ راست وزیراعظم کے ماتحت کام کرنے والے کابینہ ڈویژن نے اپنے نام سے منسوب ایک ہاؤسنگ سوسائٹی سے عوامی طور پر لاتعلقی کا اظہار کر دیا ہے۔

کابینہ ڈویژن نے خبردار کیا ہے کہ مذکورہ ہاؤسنگ اسکیم سے اس کا کسی بھی قسم کا کوئی تعلق نہیں، اگرچہ اس کے نام سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ اس کا تعلق کابینہ ڈویژن سے ہے۔
کابینہ ڈویژن نے ایک سرکاری وضاحتی بیان (ڈسکلیمر) کے ذریعے کہا کہ’’ کابینہ ڈویژن ایمپلائز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی‘‘ کے نام سے رجسٹرڈ ایک ہاؤسنگ سوسائٹی ’’کابینہ ڈویژن‘‘ کا نام اس انداز میں استعمال کر رہی ہے جس سے یہ غلط اور گمراہ کن تاثر پیدا ہوتا ہے کہ یہ سوسائٹی کابینہ ڈویژن یا حکومتِ پاکستان کی ملکیت ہے، اس کے زیرِ انتظام ہے، اس کی سرپرستی میں چل رہی ہے یا کسی اور انداز میں اس سے منسلک ہے۔
وضاحتی بیان میں کہا گیا: ’’یہ واضح کیا جاتا ہے کہ کابینہ ڈویژن کا مذکورہ ہاؤسنگ سوسائٹی یا کسی بھی دوسری ہاؤسنگ سوسائٹی کے ساتھ انتظامی، مالی، قانونی، عملی یا کسی بھی نوعیت کا کوئی تعلق یا وابستگی نہیں ہے۔‘‘
اس وضاحتی بیان کی اہمیت صرف ایک ہاؤسنگ سوسائٹی تک محدود نہیں۔ یہ خود کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کیا گیا ہے، جو وفاقی حکومت کی سول انتظامیہ کا مرکزی ادارہ ہے، براہِ راست وزیراعظم کے ماتحت کام کرتا ہے اور وفاقی کابینہ اور ریاست کے اہم اداروں کے امور میں رابطہ کاری کی ذمہ داری انجام دیتا ہے۔
اس پیشرفت نے ایک دیرینہ طرزِ عمل پر دوبارہ سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جس کے تحت پاکستان بھر میں متعدد ہاؤسنگ سوسائٹیوں نے وفاقی وزارتوں، ڈویژنز، سرکاری محکموں، آئینی اداروں، قانون نافذ کرنے والے اداروں، سرکاری شعبے کی تنظیموں اور حتیٰ کہ عدالتی اداروں کے نام اختیار کر رکھے ہیں۔
عام شہریوں اور سرمایہ کاروں کے لیے ایسے نام اکثر یہ تاثر پیدا کرتے ہیں کہ ان منصوبوں کو سرکاری سرپرستی، حکومتی ملکیت یا ادارہ جاتی پشت پناہی حاصل ہے۔
جائیداد کے شعبے سے وابستہ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہی تاثر کئی برسوں سے سرمایہ کاری کے فیصلوں پر اثرانداز ہوتا رہا ہے۔ بہت سے خریدار سرکاری اداروں کے نام رکھنے والی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو عام نجی اسکیموں کے مقابلے میں زیادہ محفوظ سمجھتے رہے، کیونکہ ان کا خیال تھا کہ ایسے منصوبے حکومتی نگرانی اور جوابدہی کے دائرے میں ہوتے ہیں۔
تاہم پاکستان کے ہاؤسنگ شعبے میں کوآپریٹو اور نجی ہاؤسنگ اسکیموں سے متعلق متعدد اسکینڈلز سامنے آ چکے ہیں۔ ہزاروں سرمایہ کار ایسے منصوبوں میں اربوں روپے سے محروم ہو چکے ہیں جو بعد میں دھوکہ دہی، غیر قانونی زمین کے لین دین، ایک ہی پلاٹ کی متعدد فروخت، غیر مجاز تعمیر و ترقی، طویل قانونی تنازعات یا قبضہ نہ دینے جیسے الزامات کی زد میں آگئے۔
اس پس منظر میں کابینہ ڈویژن کا وضاحتی بیان غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے کیونکہ اس کے ذریعے عوام کو عملاً یہ پیغام دیا گیا ہے کہ کسی ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام میں کسی وفاقی ادارے کا نام شامل ہونا ہرگز اس بات کا ثبوت نہیں سمجھا جانا چاہیے کہ وہ حکومت کی ملکیت، سرپرستی یا ذمہ داری کے تحت کام کر رہی ہے۔
اس وضاحتی بیان سے اس بحث کے دوبارہ شروع ہونے کا بھی امکان ہے کہ آیا موجودہ قوانین سرکاری اداروں سے منسوب ناموں کے استعمال کو مؤثر انداز میں منظم کرتے ہیں یا نہیں۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بات کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ آیا کوآپریٹو سوسائٹیوں یا نجی اداروں کو آئینی اور سرکاری اداروں کے نام اس انداز میں استعمال کرنے کی اجازت ہونی چاہیے جس سے معقول طور پر عوام یہ سمجھیں کہ ان اداروں کو سرکاری منظوری یا سرپرستی حاصل ہے۔
یہ معاملہ صرف کابینہ ڈویژن تک محدود نہیں۔ مختلف سرکاری اداروں، خودمختار تنظیموں اور دیگر ریاستی اداروں کے ناموں پر قائم ہاؤسنگ سوسائٹیاں کئی دہائیوں سے موجود ہیں، اور ان میں سے بہت سی آج بھی انہی ناموں سے وابستہ ساکھ کو اپنی تشہیر کا بنیادی ذریعہ بنائے ہوئے ہیں۔ آیا ان اداروں کا بھی ایسی سوسائٹیوں سے کوئی قانونی یا انتظامی تعلق نہیں، یہ بھی ایک اہم سوال ہے۔



