
چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے وزیراعظم شہبازشریف کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے ہمارا مینڈیٹ تسلیم کیا، ن ليگ کو احساس نہيں ہونے دیں گے کہ وہ گلگت بلتستان میں حکومت میں نہیں اپوزیشن میں ہیں۔
گلگت بلتستان میں وزیر اعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ کی تقریب حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا گلگت بلتستان کے مسلم لیگ کے نمائندوں نے ہماری حمایت کی، ہم مل کر اس خطے کی ترقی کے لیے کام کریں گے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام آج تک ذوالفقار علی بھٹو کو یاد کرتے ہیں، گلگت بلتستان کے عوام نے ڈوگرہ راج سے آزادی حاصل کی، گلگت بلتستان کے عوام کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو آئینی حقوق دلوائیں گے، میں وہ دن دیکھنا چاہتا ہوں جب قومی اسمبلی میں ان کے ساتھ گلگت بلتستان اور آزا کشمیر کا نمائندہ بیٹھا ہو، چاہے اسے رکن قومی اسمبلی کا نام نہ دیں ، سفیرکا نام دے دیں لیکن چاہتے ہیں کہ وہ وفاقی حکومت کا حصہ بنیں ، حق ملکیت کا جو پیپلزپارٹی نے وعدہ کیا ہے، اس وعدے پر عملدرآمد کیا جائےگا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ یہاں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے فارمنگ کی جاسکتی ہے، جو وفاق میں ہمیں مل کر کام کرنا ہے وہ ہم کریں گے، یہ آپ کی اپنی زمین ہے، آپ کو فیصلہ کرنا ہے کہ اس زمین کا کیا کرنا ہے، یہ ہماری ذمہ داری ہےکہ ایسا معاشی ماحول بنائیں گےکہ یہاں کے لوگوں کو روزگار ملے، سب سے زیادہ میرٹ یہاں گلگت بلتستان میں موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاست جھگڑے اور دشمنی کا دوسرا نام ہے، لیکن جی بی میں حکومت جیتنے والے اور ہارنے والے کی بھی ہے، کسی جماعت کو فرق محسوس نہیں ہونے دیں گے، سب گلگت بلتستان کے ہیں، سردیوں سے پہلے ہم گلگت بلتستان میں بلدیاتی انتخابات کرائیں گے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیراعظم مودی نے پاکستان سے جنگ میں شکست کے بعد اب اسرائیل ماڈل اپنالیا ہے، لیکن مودی سن لو، یہ سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے، ہم جانتے ہیں کہ بھارت افغانستان کے ذریعے خیبر پختونخوا اور بلوچستان ميں کیا کرنا چاہتا ہے ، وہی سازش آزادکشمیر اور گلگت بلتستان میں کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ، لیکن اسے ناکام بنائيں گے۔
بلاول کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے بھی جنگ میں ناکامی کے بعد ایران میں اندرونی خلفشار کی ناکام کوشش کی، دریائے سندھ کا دفاع کريں گے اور اس کے لیے جنگ بھی لڑنا پڑی تو لڑيں گے، سندھ طاس معاہدے پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔



