بزنس

ایران امریکا جنگ کے دوران تیل کمپنیوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری کا انکشاف

سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکر ٹیریٹ کے اجلاس میں ایران امریکا جنگ کے دوران آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کی جانب سے بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری کا انکشاف ہوا ہے۔

کسٹمز حکام نے بتایا کہ اس سارے معاملے پر آڈٹ کا حکم دے دیا گیا ہے اور ایف بی آر نے 2 او ایم سیز کی جانب سے ڈیوٹی کی ادائیگی کے بغیر پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت کی تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس سینیٹر رانا محمود الحسن کی صدارت میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا، اجلاس میں سول سرونٹ ترمیمی بل 2026 کی منظوری دے دی گئی جبکہ ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران سے متعلق معاملہ وفاقی کابینہ کے سپرد کرنے کی تجویز دی گئی۔

تیل کمپنیوں کی ٹیکس چوری کے معاملے پر کسٹمز حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ جنگ کے دوران لیوی کی شرح میں بہت زیادہ اتار چڑھاؤ ہوا ہے۔

کسٹمز حکام کے مطابق کچھ کمپنیوں کےبارے میں تاخیر سے ادائیگیوں کی معلومات ملیں زیادہ تر تیل کمپنیاں اس میں ملوث ہیں۔

حکام نے کہا کہ تیل کمپنیاں ڈیلرز کے ذریعے اپنا مال فروخت کرتی ہیں اور بعد میں ڈیوٹیز ادا کرتی تھیں، تیل کمپنیوں کو جو پیسہ شروع میں دینا چاہیے وہ سب سے آخر میں خزانے میں آیا۔

حکام کا کہنا تھا کہ ڈیوٹیز ادا کیے بغیر سامان لے جانا قانون کی خلاف ورزی ہے، تیل کمپنیوں نےسامان اٹھالیا اور جب لیوی کی شرح کم ہوئی تو ادائیگیاں کردیں،کسٹم حکام نے کہا کہ اوگرا کے پاس جب سبسڈی کے کلیمز آئے تو تیل کمپنیاں پکڑی گئیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker