World

بھارت: رام مندر کے چندے سے کروڑوں کی چوری میں ملازمین ملوث نکلے، تفتیش میں تہلکہ خیز انکشافات

بھارتی شہر ایودھیا میں مسلمانوں کی تاریخی عبادت گاہ بابری مسجد کو شہید کر کے بنائے گئے رام مندر کے عطیات گننے والے مرکز سے ملازمین نے کئی لیئرز پر بنائے گئے سکیورٹی سسٹم کو چکما دیکر کروڑوں روپے خرد برد کر ڈالے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق رام مندر کے عطیات میں بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آنے کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا جس میں تہلکہ خیز انکشافات سامنے آئے۔

خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ ابتدا میں چند ملازمین کی جانب سے صرف ایک دو 500 روپے کے نوٹ چوری کرنے کا سلسلہ شروع ہوا، لیکن بعد میں یہی واردات بڑھتے بڑھتے تقریباً 2 سے 3 کروڑ روپے کی مبینہ خرد برد تک جا پہنچی۔

تحقیقات کے مطابق عطیات گننے والے عملے کے بعض ارکان نے سی سی ٹی وی نگرانی میں موجود خامیوں اور کمزور سکیورٹی سسٹم کا فائدہ اٹھایا، ابتدا میں رام مندر کے ملازمین اپنی جیبوں یا کپڑوں میں چند نوٹ چھپا کر باہر لے جاتے تھے لیکن بعد میں نقد رقم کے بنڈل اور پھر بڑی مقدار میں رقم نکالنے لگے۔

تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ عطیات گننے کے عمل میں شامل 6 ملازمین نے ملازمت شروع کرنے کے چند ماہ بعد ہی چوری کا سلسلہ شروع کیا، ملزمان نے بتایا کہ ابتدا میں وہ ایک یا دو 500 روپے کے نوٹ اپنے کپڑوں میں چھپا کر لے جاتے تھے لیکن جب یہ چوریاں پکڑی نہیں گئیں تو ان کا حوصلہ بڑھتا گیا اور بعد ازاں وہ انفرادی نوٹوں کے بجائے نقد رقم کے بنڈل چرانے لگے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق تحقیقات میں ملزمان نے اعتراف کیا کہ انہوں نے مجموعی طور پر تقریباً 2 سے 3 کروڑ روپے کی رقم چوری کی۔

تحقیقات کے مطابق 7 ملزمان نے مبینہ طور پر چوری کی گئی رقم سے ایودھیا اور دیگر مقامات پر جائیدادیں خریدیں، ذرائع کے مطابق 4 اور 5 جون کے دوران حکام نے ملزمان سے منسلک مقامات پر چھاپوں کے دوران تقریباً 79 لاکھ روپے نقد اور زیورات برآمد کیے، بعدازاں گرفتاریوں کے بعد مزید نقد رقم بھی برآمد ہوئی۔

ایس آئی ٹی کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ صرف چند افراد کی چوری تک محدود نہیں بلکہ اس نے ان حفاظتی انتظامات کی سنگین خامیوں کو بھی بے نقاب کیا ہے جو عقیدت مندوں کے عطیات کی حفاظت کے لیے بنائے گئے تھے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker