پی ٹی آئی کو بڑا دھچکا،متعد رہنمائوں کی ن لیگ میں شمولیت
آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے آئندہ انتخابات کے پیش نظر سیاسی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے۔

اسی سلسلے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے ایک وفد نے وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ رانا ثنا اللہ سے اہم ملاقات کی۔ جس میں آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال، انتخابی تیاریوں، امن و امان اور پارٹی کی آئندہ حکمت عملی پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران وفد نے رانا ثنا اللہ کو جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال اور امن و امان سے متعلق تازہ حالات سے آگاہ کیا۔ وفد نے انتخابی ماحول، عوامی رابطہ مہم اور مختلف حلقوں میں پارٹی کی تنظیمی سرگرمیوں کے بارے میں بھی بریفنگ دی۔
دورانِ ملاقات ایک اہم سیاسی پیش رفت بھی سامنے آئی، جب پاکستان تحریک انصاف کے متعدد رہنماؤں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اعلان کیا۔ پارٹی قیادت نے نئے شامل ہونے والے رہنماؤں کا خیرمقدم کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ ان کی شمولیت سے آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) مزید مضبوط ہوگی اور انتخابی مہم کو تقویت ملے گی۔
وفاقی وزیر رانا ثنا اللہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام کو اپنی مرضی کے نمائندے منتخب کرنے کے لیے آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابی ماحول فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ انتخابات کے انعقاد میں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا تاکہ انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رہے۔
انہوں نے کہا کہ ووٹ کے تقدس کا تحفظ جمہوری نظام کی بنیاد ہے۔ شفاف انتخابات ہی عوامی اعتماد کو مضبوط کرتے ہیں اور جمہوری اداروں کو استحکام دیتے ہیں۔ حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ انتخابی عمل مکمل طور پر غیرجانبدار اور پرامن انداز میں مکمل ہو۔
رانا ثناء اللہ نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد جموں و کشمیر کے تمام انتخابی حلقوں میں بھرپور انداز میں انتخابی مہم چلائے گی۔ پارٹی کارکن گھر گھر جا کر عوام سے رابطہ کریں گے اور اپنی کارکردگی اور مستقبل کے منصوبوں سے آگاہ کریں گے۔ مسلم لیگ (ن) عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے بھرپور سیاسی مہم جاری رکھے گی۔
ملاقات کے اختتام پر مسلم لیگ (ن) کے وفد نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پارٹی منظم، پرامن اور مؤثر انتخابی مہم چلائے گی۔ کارکنوں کو متحرک کیا جا رہا ہے اور ہر حلقے میں عوامی رابطے مزید مضبوط بنائے جائیں گے تاکہ آئندہ انتخابات میں بہترین نتائج حاصل کیے جا سکیں۔



