پاکستان میں فائیو جی کے کتنے ٹاورز ہیں؟

چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی نے کہا ہے کہ انٹرنیٹ اسپیڈ کو ایوریج سے میڈیم پر لے کرگئے ہیں، پاکستان میں 440 ٹاورز پر فائیو جی لانچ کر دی گئی ہے۔ میڈیا کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی و ٹیلی کام کا اجلاس ہوا۔ اس موقع پر چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ اسلام آباد سے سائیڈ پر جائیں تو انٹرنیٹ اسپیڈ کم ہوجاتی تھی۔
چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ میرے اپنے علاقے میں ایک ایم بی پی ایس اسپیڈ تھی، پاکستان میں 440 ٹاورز پر فائیو جی لانچ کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مئی میں پاکستان میں اوسط 10 گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہوئی، کچھ علاقوں میں 18 گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ ہوئی ہے۔ ٹیلی کام ٹاورز کو لوڈشیڈنگ سے استثنی دینے کیلئے وزیراعظم نے کمیٹی بنائی ہے۔
دوسری جانب گزشتہ روز وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس، سائبر سکیورٹی، پبلک ڈیٹا سسٹمز اور ڈیجیٹل ریگولیشن کی ترقی میں خواتین کو فیصلہ سازی کے عمل میں بامعنی مقام ملنا چاہیے۔
انہوں نے پاکستان کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنے تجربات کا تبادلہ کرنے، شراکت دار ممالک سے سیکھنے اور خواتین کو ڈیجیٹل بااختیار بنانے کے لیے عملی شراکت داری قائم کرنے کے لیے تیار ہے۔ پیر کے وزارت انسانی حقوق کے زیر اہتمام خواتین سے متعلق 9 ویں او آئی سی وزارتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں صنفی ڈیجیٹل فرق (مردوں اور عورتوں کے درمیان فرق) کو کم کرنے میں دنیا کی تیز ترین ترقی ریکارڈ کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جی ایس ایم اے کے مطابق پاکستان نے ڈیجیٹل شمولیت خاص طور پر موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں دنیا کی سب سے بڑی بہتری ریکارڈ کی ہے۔انہوں نے بتایا کہ جب انہوں نے عہدہ سنبھالا تو پاکستان میں صنفی ڈیجیٹل فرق 35 فیصد تھا، یہ 2025ء میں کم ہو کر 25 فیصد رہ گیا اور 2026ء کی رپورٹ میں مزید گر کر صرف 8 فیصد پر آ گیا جس نے پاکستان کو موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں صنفی فرق کو ختم کرنے والا دنیا کا تیز ترین ملک بنا دیا ہے۔
شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران خواتین میں موبائل انٹرنیٹ اپنانے کی شرح 33 فیصد سے بڑھ کر 45 فیصد ہو گئی ہے تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صرف کنیکٹیویٹی (انٹرنیٹ تک رسائی) ہی کافی نہیں ہے، کامیابی کا اصل معیار یہ ہے کہ آیا دور دراز اور دیہی علاقوں میں رہنے والی خواتین ٹیکنالوجی کا استعمال سیکھنے، کمانے، ڈیجیٹل ادائیگیاں حاصل کرنے اور کاروباری شخصیت (انٹرپرینیور) بننے کے لیے کر سکتی ہیں یا نہیں۔



