انٹرنیشنلتازہ ترین

خلابازوں نے خلا میں اپنے ہی ہاتھ کے ایکسرے کی تصاویر لینے میں کامیابی حاصل کرلی

خلابازوں نے خلا میں اپنے ہی ہاتھ کے ایکسرے کی تصاویر لینے میں کامیابی حاصل کرلی۔

ریڈیو لوجی جریدے میں ایک تحقیق شائع کی گئی جس میں محققین نے اعلان کیا کہ ایک کمرشل خلائی پرواز کے دوران پہلی بار کامیابی کے ساتھ ایکسرے تصاویر حاصل کی گئی ہیں۔

یہ کامیابی اسپیس ایکس کے ’فریم 2‘ مشن کے دوران لی گئی جو 2025 میں شروع کی جانے والی قطبی مدار (polar orbit) کی ساڑھے تین روزہ پرواز تھی۔

دنیا کے سب سے بڑے ڈیجیٹل کیمرہ نے کائنات کی حیران کردینے والی تصاویر لینا شروع کردیں

خلا بازوں نے یہ تصاویر کمرشل آف دی شیلف پورٹیبل ڈیجیٹل ایکسرے جنریٹر اور فلیٹ پینل ڈٹیکٹر کا استعمال کرتے ہوئے لی ہیں جس میں عملے کے ہاتھ، بازو، سینے، پیٹ اور کولہے کی تصاویر شامل ہیں۔

فریم 2 مشن کے عملے نے پرواز سے قبل صرف 4 گھنٹے کی تربیت حاصل کی تھی اور کامیابی حاصل کی۔

اس تصویر کو لینے کا مقصدکیا تھا؟

اس حوالے سے میو کلینک (Mayo Clinic) میں ایرو اسپیس میڈیسن کی اسسٹنٹ پروفیسر اور مرکزی محقق ڈاکٹر شینا گفورڈ کا کہنا تھا کہ خلا میں بیماریوں اور چوٹوں کی تشخیص کے لیے ایک سے زیادہ امیجنگ طریقوں (imaging modalities) کا ہونا ایرو اسپیس میڈیسن کے شعبے کا ایک دیرینہ خواب رہا ہے۔

زمین پر موجود 99 فیصد آبادی آج ایک ہی وقت میں سورج کی روشنی سے کیسے مستفید ہوگی؟

انہوں نے کہا کہ روایتی ایکسرے مشینیں بڑی، بھاری اور زیادہ توانائی استعمال کرتی ہیں جب کہ مریض کی معمولی حرکت سے تصاویر بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔

نئی پورٹیبل مشین نہایت ہلکی، تیز رفتار اور مائیکرو گریویٹی (کم کششِ ثقل) کے ماحول میں مؤثر طریقے سے کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ڈاکٹر گفورڈ کے مطابق خلا میں انسان اور آلات کے پہلے ایکسرے حاصل کر کے تحقیق، عملے کی صحت اور ہارڈویئر کے جائزے کے لیے مدار میں ریڈیوگرافی اور تشخیصی صلاحیتوں میں توسیع کے امکان کو ثابت کرتی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker