فٹبال ورلڈ کپ کی گیند کے پیچھے چھپے عددی کمال اور منفرد انکشافات

ورلڈ کپ کا فائنل میچ جیسے جیسے قریب آ رہا ہے، دنیا بھر میں فٹ بال کا جنون عروج پر پہنچ چکا ہے۔ میدان میں جہاں سب کی نظریں کھلاڑیوں کی کارکردگی پر مرکوز ہیں، وہیں اس کھیل کے ایک اہم ترین کردار یعنی فٹ بال کی گیند اور اس کے پیچھے چھپی حیرت انگیز کہانی کو اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ یہ صرف چمڑے یا مصنوعی مواد سے بنی ایک گیند نہیں، بلکہ اس کے ڈیزائن کے پسِ پردہ ریاضی، ہندسوں اور جیومیٹری کا ایک شاندار اور متوازن نظام موجود ہے۔
انسانی تاریخ میں مقبول ترین اور متوازن شکل کے سائنسی حسن کو اجاگر کرنے کے لیے نیویارک میں قائم نیشنل میوزیم آف میتھمیٹکس ایک خصوصی تربیتی سیشن کا انعقاد کر رہا ہے، جس کا عنوان ”فٹ بال کی خفیہ جیومیٹری“ رکھا گیا ہے۔ اس تقریب میں بتایا جا رہا ہے کہ کس طرح دنیا کے اس مقبول ترین کھیل کی گیند کے پیچھے ریاضی کے خوبصورت اصول کام کر رہے ہیں۔
اس پیشکش کی قیادت کرنے والے ریاضی دان ڈاکٹر چائم گوڈمین اسٹراس کا کہنا ہے کہ ”یہ سیشن انتہائی دلچسپ، پُرجوش اور تفریحی ہوگا۔“
وہ کہتے ہیں کہ جب وہ سڑک پر چلتے ہیں تو انہیں ہر جگہ، عمارتوں، لوہے کے دروازوں اور حتیٰ کہ سائے میں بھی ریاضی کا یہی توازن دکھائی دیتا ہے۔
ان کے مطابق، روایتی 32 پینلز پر مشتمل سیاہ اور سفید فٹ بال دنیا میں ریاضیاتی توازن کی بہترین مثالوں میں سے ایک ہے، کیونکہ ایک گول شکل میں اس سے زیادہ متوازن نمونہ تشکیل دینا ممکن نہیں۔
فٹ بال بنانے والی معروف کمپنی ایڈیڈاس کے شعبہ فٹ بال انوویشن کے سربراہ ہانیس شیفکے بھی اس سائنسی حقیقت سے مکمل اتفاق کرتے ہیں۔
ایک انٹرویو میں ہانیس شیفکے نے کہا، ”دیکھا جائے تو یہ گیند اپنی تکنیکی خصوصیات سمیت ایک مکمل متوازن نظام کی نمائندگی کرتی ہے، چاہے آپ اسے کسی بھی سمت سے گھمائیں۔“
ان کا کہنا تھا کہ فٹ بال کے ڈیزائن کے پیچھے ریاضی کا آغاز ایک بنیادی سوال سے ہوتا ہے کہ ایک گول دائرے یا کُرے کی سطح پر تمام نقاط کو کس طرح یکساں انداز میں تقسیم کیا جائے۔
ریاضی کے ماہرین کے مطابق عام زندگی میں توازن سے مراد عموماً حصوں کا باہمی میل یا یکسانیت ہوتی ہے، لیکن ریاضی میں توازن کا تصور اس سے کہیں زیادہ گہرا اور پیچیدہ ہے۔
موراویئن یونیورسٹی کی پروفیسر ایمریٹس ڈورس شیٹ شنائیڈر اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہیں، ”کسی شے کے توازن کو اس پر کی جانے والی تبدیلی یا عمل کے حوالے سے بیان کیا جاتا ہے۔ اگر کسی شے کو گھمانے یا تبدیل کرنے کے بعد بھی وہ بالکل ویسی ہی دکھائی دے جیسی ابتدا میں تھی تو اسے متوازن کہا جاتا ہے۔“



