یورپ میں بجلی کی پیداوار کا 25 فیصد سے زائد شمسی توانائی سےحاصل، جرمنی سب سے آگے

یورپی یونین میں پہلی بار شمسی توانائی بجلی کا سب سے بڑا ذریعہ بن گئی ہے اور جون 2026 میں پہلی بار 25 فیصد بجلی سولر سسٹم سے حاصل کی گئی۔
توانائی پر تحقیق کرنے والے ادارے ایمبر (Ember) کی رپورٹ کے مطابق جون 2026 میں یورپی یونین نے شمسی توانائی سے ریکارڈ 52 ٹیرا واٹ آور بجلی پیدا کی، جو مجموعی ماہانہ بجلی پیداوار کا 25 فیصد بنتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق شمسی توانائی پہلی بار یورپی یونین کا سب سے بڑا بجلی کا ذریعہ بن گئی، جبکہ جوہری توانائی 21 فیصد، گیس 15 فیصد، ہوا 14 فیصد، پن بجلی 12 فیصد اور کوئلے کا حصہ صرف 8 فیصد رہا۔
رپورٹ کے مطابق 2021 سے 2025 کے دوران یورپی یونین میں شمسی توانائی کی صلاحیت میں ہر سال اوسطاً 20 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جبکہ صرف 2025 میں 65.1 گیگا واٹ کے نئے سولر لگائے گئے۔
رپورٹ کے مطابق شدید گرمی کی لہر کے باعث توانائی کی بڑھتی طلب کے دوران بھی شمسی توانائی نے بجلی کی فراہمی برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
رپورٹ کے مطابق جرمنی قابلِ تجدید توانائی حاصل کرنے میں سب سے آگے رہا جہاں مئی 2026 میں پہلی بار ملک کی 33 فیصد بجلی شمسی توانائی سے پیدا ہوئی، جبکہ جون میں یہ شرح بڑھ کر 36 فیصد تک پہنچ گئی۔
اس کے علاوہ اسپین نے جون 2026 میں پہلی بار اپنی 34 فیصد بجلی شمسی توانائی سے حاصل کی، 2019 کے بعد سے اسپین نے ہوا اور شمسی توانائی کی مجموعی صلاحیت میں 40 گیگا واٹ سے زائد اضافہ کیا ہے، جس کے باعث صارفین کے بجلی کے بلوں میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔



