انٹرنیشنل

آبنائے باب المندب کی ممکنہ بندش ،عالمی تیل منڈی میں ہلچل

آبنائے باب المندب کی ممکنہ بندش کی وجہ سے عالمی تیل منڈی میں ہلچل مچ گئی ہے۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد عالمی توانائی منڈی میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یمن کے حوثی Yemen’s Houthis آبنائے باب المندب کو مؤثر طور پر بند کرنے میں کامیاب ہو گئے تو دنیا کی اہم ترین تیل بردار گزرگاہوں میں سے ایک متاثر ہوگی، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ، ایندھن کی فراہمی میں رکاوٹ اور عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والی اہم آبی گزرگاہ ہے، جہاں سے مشرق وسطیٰ، یورپ اور ایشیا کے درمیان خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی بڑی مقدار منتقل کی جاتی ہے، 2023 سے حوثیوں کے بحری حملوں کے باعث کئی جہاز پہلے ہی افریقہ کے گرد طویل راستہ اختیار کر رہے ہیں، جس سے سفری اخراجات اور ترسیل کا وقت بڑھ چکا ہے۔

توانائی امور کے ماہر رچرڈ برونز کے مطابق اگر باب المندب مؤثر طور پر بند ہو جاتی ہے تو یہ خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا بڑا سبب بن سکتی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker