انٹرنیشنل

پاک، سعودی و ترکی دفاعی معاہدہ

ریاض سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق آج جمعہ کے مبارک روز جدہ میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف ایک تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کریں گے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے فوج اور حکومت سے قریبی دو ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس معاہدے پر طویل عرصے سے غور جاری تھا، تاہم خطے میں حالیہ تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال نے اس عمل کو فیصلہ کن مرحلے تک پہنچا دیا۔ اسی دوران رائٹرز نے بھی علاقائی ذرائع کے حوالے سے اس پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال کے آغاز میں ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے انکشاف کیا تھا کہ ترکیہ سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ ایک دفاعی معاہدے کے امکانات پر مذاکرات کر رہا ہے، جبکہ ترک سیکورٹی اور سفارتی حلقوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی تھی کہ انقرہ، ریاض اور اسلام آباد پر مشتمل دفاعی اتحاد میں شمولیت پر غور کر رہا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے وزیر برائے دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ تقریباً ایک سال تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد تینوں ممالک نے مشترکہ دفاعی معاہدے کا مسودہ تیار کر لیا ہے۔ ان کے مطابق یہ مجوزہ معاہدہ 2025ء میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے دوطرفہ دفاعی معاہدے سے الگ ہے، تاہم اس پر عمل درآمد کے لیے تینوں ممالک کی حتمی منظوری ضروری تھی، جو اب مکمل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر جمعرات کو سعودی عرب پہنچ چکے ہیں، جبکہ صدر رجب طیب اردوان آج جدہ پہنچیں گے، جہاں متوقع طور پر تینوں رہنما اس اہم دفاعی معاہدے پر دستخط کریں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب پہلے ہی 2025ء میں ایک دوطرفہ دفاعی معاہدہ کر چکے ہیں، جس کے بعد یہ قیاس آرائیاں بھی سامنے آئی تھیں کہ آیا اس میں جوہری تعاون سے متعلق کوئی شق شامل ہے یا نہیں، کیونکہ پاکستان دنیا کی جوہری طاقتوں میں شمار ہوتا ہے۔

بہرحال اب ترکیہ کی شمولیت اس مجوزہ دفاعی اتحاد کو کئی حوالوں سے زیادہ مؤثر بنا سکتی ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں ترکی نے دفاعی صنعت میں غیر معمولی ترقی کرتے ہوئے خود کو اسلحہ درآمد کرنے والے ملک سے جدید دفاعی سازوسامان برآمد کرنے والی اہم طاقت میں تبدیل کر لیا ہے۔ آج ترکیہ اپنی دفاعی ضروریات کا 80 فیصد حصہ مقامی طور پر پورا کرتا ہے، جبکہ اس کے جنگی ڈرونز، میزائل، بکتر بند گاڑیاں، بحری جنگی جہاز اور دیگر دفاعی مصنوعات یوکرین، شام، لیبیا اور کئی دوسرے ممالک میں اپنی مؤثریت ثابت کر چکی ہیں۔ عالمی درجہ بندی میں ترک دفاعی کمپنیوں کی مسلسل بہتر ہوتی ہوئی پوزیشن بھی اس شعبے میں ترکی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی عکاس ہے۔ اس سال پہلی دفعہ ترکیہ جدید ترین اسلحہ برآمد کرنے والے بڑے ممالک کی صف میں بھی شامل ہوگیا ہے۔

ماہرین کے مطابق ترکیہ، سعودیہ اور پاکستان کا اشتراک صرف ایک دفاعی معاہدہ نہیں بلکہ یہ دفاعی پیداوار، جدید ٹیکنالوجی، مشترکہ عسکری مشقوں، انٹیلی جنس تعاون اور اسلحہ سازی کے شعبے میں طویل المدتی شراکت داری کی بنیاد بن سکتا ہے۔ ترکی نیٹو کی دوسری بڑی فوج، جدید دفاعی صنعت اور اہم جغرافیائی محل وقوع کے باعث اس اتحاد میں منفرد اہمیت رکھتا ہے، جبکہ پاکستان اپنی عسکری مہارت اور جوہری صلاحیت کے باعث اس کی دفاعی قوت میں اضافہ کرے گا اور سعودی عرب اپنی مالی استعداد اور سرمایہ کاری کے ذریعے مشترکہ منصوبوں کو مضبوط بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے نزدیک ان تینوں ممالک کی صلاحیتوں کا امتزاج خطے میں طاقت کے توازن پر نمایاں اثر ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

دفاعی امور کے ماہرین کے مطابق یہ صرف ایک عسکری سمجھوتہ نہیں بلکہ اسلامی دنیا میں دفاعی تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ تینوں ممالک اپنی الگ الگ صلاحیتوں کے باعث ایک دوسرے کی قوت میں اضافہ کریں گے۔ سعودی عرب مالی وسائل، جدید دفاعی سرمایہ کاری اور خطے میں سیاسی اثر و رسوخ رکھتا ہے، پاکستان تجربہ کار مسلح افواج، دفاعی پیداوار اور جوہری صلاحیت کا حامل ہے، جبکہ ترکیہ جدید دفاعی ٹیکنالوجی، ڈرون سازی، میزائل پروگرام، بحری صنعت اور نیٹو کی دوسری بڑی فوج کے ساتھ اس اتحاد کو تکنیکی اور عملی مضبوطی فراہم کر سکتا ہے۔

بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس شراکت داری سے مشترکہ دفاعی پیداوار، عسکری تربیت، انٹیلی جنس تعاون، فوجی مشقوں، اسلحہ سازی اور دفاعی تحقیق کے شعبوں میں نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ اگر یہ تعاون مستقل بنیادوں پر آگے بڑھتا ہے تو یہ نہ صرف تینوں ممالک کی دفاعی خود کفالت کو تقویت دے گا بلکہ مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور وسیع تر اسلامی دنیا میں طاقت کے توازن، علاقائی استحکام اور اجتماعی دفاعی تعاون پر بھی دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker