کم جونگ اُن سے اچھے تعلقات ہیں، رواں سال ملاقات کا ارادہ ہے: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےکہا ہےکہ رواں سال ان کا شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے ملاقات کا ارادہ ہے، کم کے ساتھ میرے بہت اچھے تعلقات ہیں۔
برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سےگفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میں کم جونگ اُن کو بہت اچھی طرح جانتا ہوں اور جب تک ہمارے (امریکا) پاس ایک سمجھ دار صدر ہے وہ ٹھیک رہےگا۔
امریکی صدرکا کہنا تھا کہ یہ حقیقت ہےکہ میری کم جونگ اُن کے ساتھ اچھی بنتی ہے، یہ ایک اچھی بات ہے، بری بات نہیں۔
امریکا کا جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی مشقیں طے شدہ وقت سے ایک ہفتہ قبل ختم کرنےکا فیصلہ
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ شمالی کوریا کے پاس 57 انتہائی طاقتور جوہری ہتھیار ہیں، انہیں کبھی بھی اس کی اجازت نہیں دینی چاہیے تھی، اگر میں صدر (پہلے)ہوتا تو میں ایسا نہیں ہونے دیتا، لیکن شمالی کوریا کے پاس اب یہ ہتھیار موجود ہیں۔
خبر ایجنسی کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب انہوں نے پینٹاگون کو جنوبی کوریا کی فوج کے ساتھ ہونے والی مشترکہ فوجی مشقیں مختصرکرنےکا حکم دیا ہے۔
اس سے قبل پیرکو ایک بیان میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ کم جونگ اُن نے ان کی بات چیت کی درخواست کا جواب دیا ہے۔ ٹرمپ نے ایک صحافی کی اس بات کو مسترد کر دیا تھا کہ شمالی کوریا نے ان کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔
کم جونگ اُن کی بہن نے ٹرمپ اور اپنے بھائی کے درمیان کسی بھی رابطےکی تردیدکردی
دوسری جانب شمالی کے رہنما کم جونگ اُن کی بہن کم یو جونگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اپنے بھائی کے درمیان جاری کسی بھی رابطےکی تردید کرتے ہوئےکہا ہےکہ کم جونگ اُن کے ٹرمپ کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں لیکن شمالی کوریا کے خلاف امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق ایک بیان میں کم یو جونگ کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا اور امریکا کے رہنماؤں کے درمیان رابطےکے حوالے سے آنے والی حالیہ خبروں کے بارے میں انہیں کوئی علم نہیں۔
کم یو جونگ کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے فوجی مشقیں مختصر کرنے سے ان کی اشتعال انگیز اور جارحانہ نوعیت تبدیل نہیں ہوتی، یہ مشقیں شمالی کوریا کے خلاف دشمنی کا واضح اظہار ہے۔
انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا اپنی قومی سلامتی کے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنی دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط بناتا رہےگا۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ روس کے ساتھ بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات کے باعث شمالی کوریا کی فوجی صلاحیتوں میں حالیہ برسوں کے دوران نمایاں بہتری آئی ہے۔ 2024سے کم جونگ اُن نے تقریباً 15 ہزار شمالی کوریائی فوجی روسی محاذوں پر یوکرین کے خلاف جنگ میں لڑنے کے لیے بھیجے ہیں، اس کے بدلے میں شمالی کوریا کو مالی وسائل، سفارتی حمایت اور فوجی ٹیکنالوجی حاصل ہوئی ہے۔



