امریکی فوج کا آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کیلئے خفیہ آپریشن، روزانہ لاکھوں بیرل تیل کی سپلائی کا انکشاف

امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے راستے روزانہ لاکھوں بیرل تیل کی ترسیل کے لیے خاموشی سے ایک شپنگ کوریڈور قائم کر لیا ہے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق دو امریکی حکام نے بتایا کہ وسیع تر جنگ میں تعطل کے باوجود یہ آپریشن ایک نمایاں کامیابی ہے۔
نیوز ویب سائٹ کے مطابق گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری اس خفیہ آپریشن کے تحت ہر شب عمان کے ساحل کے ساتھ ایک جنوبی چینل کے ذریعے 15 سے 20 آئل ٹینکرز آبنائے ہرمز میں داخل ہوتے ہیں یا اس سے نکلتے ہیں۔
حکام کے مطابق اس وقت روزانہ تقریباً ایک کروڑ بیرل تیل، جو جنگ سے پہلے کے حجم کا لگ بھگ نصف ہے، آبنائے سے بحفاظت نکال کر عالمی توانائی مارکیٹ میں شامل کیا جا رہا ہے۔
ویب سائٹ کے مطابق یہ پیش رفت محض اائل ٹینکرز کو حفاظتی حصار میں آبنائے ہرمز سے باہر نکالنے تک محدود نہیں ہے بلکہ امریکی فوج خالی ٹینکرز کو بحیرہ عرب سے آبنائے ہرمز کے راستے خلیج میں داخل ہونے، خطے کے ممالک سے تیل بھرنے اور پھر بحفاظت باہر نکلنے میں بھی مدد فراہم کر رہی ہے۔
معاملے سے براہ راست آگاہ ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ’ہم گزشتہ دو ماہ سے آبنائے ہرمز کی جنوبی لین کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ پاسداران انقلاب اس میں رکاوٹ ضرور بن سکتے ہیں لیکن آبنائے ہرمز کا کنٹرول ان کے پاس نہیں بلکہ ہمارے پاس ہے‘۔
ویب سائٹ کے مطابق ہرمز آپریشن کی نگرانی کرنے والی ٹاسک فورس نارتھ کیرولائنا کے فورٹ بریگ میں آرمی ہیڈکوارٹرز سے کام کر رہی ہے اور خلیجی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
ٹاسک فورس روزانہ کی بنیاد پر جہازوں کی فہرستیں تیار کرتی ہے اور انہیں ایک مخصوص شیڈول کے تحت رات کے وقت بڑے قافلوں میں گزارا جاتا ہے، اس دوران امریکی فضائیہ کے لڑاکا طیارے ایرانی کروز میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف فضائی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ یہ آپریشن امریکی سینٹرل کمانڈ کی دو ہفتوں پر محیط اس فوجی مہم کے باعث ممکن ہوا جس نے ایران کے ریڈار اور سمندری نگرانی کے نظام کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔
ویب سائٹ کے مطابق اس آپریشن کے نتیجے میں ایران کی جنوبی چینل میں بحری ٹریفک کو مانیٹر کرنے کی صلاحیت نمایاں حد تک کم ہو چکی ہے اور ایرانی فورسز جہازوں کے متوقع راستوں کی جانب محض اندازے سے ڈرونز اور کروز میزائل داغ رہی ہیں، کچھ بحری جہاز ایرانی حملوں کا نشانہ بنے ہیں، لیکن زیادہ تر حملوں کو امریکی فوج نے ناکام بنا دیا ہے۔



