انٹرنیشنل

اسپین نے امیگریشن قوانین سخت کرنےکا فیصلہ کرلیا

دیگر یورپی ممالک کی طرح اسپین نے بھی اپنے امیگریشن قوانین سخت کرنےکا فیصلہ کرلیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسپین کی حکومت نے یہ فیصلہ گزشتہ ماہ کے آخر میں پیدا ہونے والے بحران کے بعدکیا ہے جس میں مراکش سے 60 ہزار سے زائد تارکین وطن اسپین کے علاقے سیوٹا میں داخل ہوگئے تھے، اس کوشش میں 40 افراد جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

ہسپانوی حکومت نے اس بڑے سرحدی بحران کے بعد ملک کے امیگریشن اور پناہ گزینوں سے متعلق قوانین پر نظر ثانی کا فیصلہ کیا ہے۔

ویڈیو: مراکش سے 60 ہزار تارکین وطن اسپین میں داخل، 40 جاں بحق

ہسپانوی وزیر داخلہ فرنانڈو گرانڈے نےکابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں بتایا کہ حکومت نے امیگریشن اور پناہ گزینوں سے متعلق قوانین میں ترمیم کے لیے مسودہ منظور کرلیا ہے، اب اسے پارلیمنٹ سے منظور کرانا ہے، ان اصلاحات کا مقصد اسپین کے قوانین کو یورپی یونین کی ہدایات کے مطابق بنانا ہے۔

ہسپانوی وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ مجوزہ اصلاحات کا مقصد پناہ کی درخواستوں سے نمٹنے کے طریقہ کارکو بہتر اور تیز بنانا ہے، ساتھ ہی ہم اسپین کی سلامتی کو بھی یقینی بنانا چاہتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ زیادہ تر تارکین وطن پہلے تین دنوں کے دوران واپس مراکش چلےگئے تھے تاہم ہزاروں افراد اب بھی افریقا میں موجود اسپین کے علاقے سیوٹا میں موجود ہیں، جن میں سے بہت سےکھلے آسمان تلے یا عارضی جگہوں پر رہنے پر رہائش پذیر ہیں۔

اسپین اس طرح کی قانون سازی کے بڑے حصے کی مخالفت کرتا رہا ہے اور اس کا مؤقف رہا ہےکہ ہجرت کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے زیادہ جامع اور انسانی ہمدردی پر مبنی طریقہ زیادہ مؤثر ہوگا۔

اسپین کے حکام کا یہ بھی کہنا ہےکہ نئے نظام کے تحت بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت برقرار رہےگی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker