راول جھیل کے کنارے پاکستان نیول فارمز اور نیول سیلنگ کلب کو غیر قانونی قرار دینے کا فیصلہ کالعدم قرار

اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت کے راول جھیل کنارے نیول سیلنگ کلب کی عمارت گرانے اور پاکستان نیول فارمز کو غیر قانونی قرار دینے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
سابق نیول چیف ظفر محمود عباسی کے خلاف مس کنڈکٹ اور فوجداری کارروائی کرنے کا عدالتی فیصلہ بھی کالعدم قرار دے دیاگیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس اور جسٹس شاہ رخ ارجمند نے سنگل بینچ کے اس فیصلے کے خلاف وزارت دفاع اور سابق نیول چیف ظفر محمود عباسی کی انٹراکورٹ اپیلیں منظور کر لیں جو 2022 میں اس وقت کے چیف جسٹس اسلام آبادہائی کورٹ اطہر من اللہ نے سنایا تھا۔
فیصلےمیں یہ بھی قرار دیا گیا تھا کہ آڈیٹر جنرل قومی خزانے کو نقصان کا تخمینہ لگائیں اور ملوث افسران سے رقم وصول کی جائے۔
انٹرا کورٹ اپیل میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ زمین کی خریداری کے لیے کوئی پبلک فنڈ استعمال نہیں ہوا،نیوی افسران سے فنڈز اکٹھے کر کے زمین کی خریداری کا عمل مکمل کیا گیا۔
سنگل بینچ نےنیوی سیلنگ کلب کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے عمارت کو تین ہفتوں میں گرانے ، سابق نیول چیف کے خلاف مس کنڈکٹ اور فوجداری کارروائی کرنے اور نیول فارمز کے لیے جاری این او سی غیر قانونی قرار دینے کا فیصلہ سنایا تھا۔
عدالت نے آبزرویشن دی تھی کہ پاکستان نیوی یا کسی ریاستی ادارے کا نام ریئل اسٹیٹ بزنس میں استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
تاہم اب عدالت نے نیول سیلنگ کلب کی عمارت گرانے کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دے دیا ، سابق نیول چیف ظفر محمود عباسی کے خلاف مس کنڈکٹ اور فوجداری کارروائی کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دیا گیا۔
اس کے علاوہ عدالت نے قومی خزانے کو نقصان پہنچنے کا تخمینہ لگانے اور ملوث افسران سے رقم واپس لینے کا حکم بھی کالعدم قرار دے دیا۔



