پاکستان

سانحہ پمز: ’میرے سامنے قیامت گزرگئی‘ بچی کو بچانیوالی نرس تفصیل بتاتے ہوئے آبدیدہ ہوگئی

سانحہ پمز اسپتال میں ایک بچی کو بچانے والی نرس رضیہ نورین نے کہا کہ میری خوش قسمتی ہے کہ میں 8 سیکنڈ میں بچی کو وارڈ سے نکال سکی۔

جیو نیوز سے گفتگو کے دوران نرس رضیہ نورین جاں بحق بچوں کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں اور کہا کہ کہتے ہیں قیامت آئے گی، اس دن میرے سامنے قیامت آگئی، اس سانحے کے ذہنی اثر سے نکلنے میں مجھے سالوں لگیں گے، میں روز دو گولیاں کھا کر سوتی ہوں اور مجھے نیند نہیں آتی۔

انہوں نے کہا کہ میری خوش قسمتی ہے کہ میں 8 سیکنڈ میں بچی کو وارڈ سے نکال سکی، میں نے کوئی ڈرل نہیں کی ہوئی، بچی کے والدین میرے اتنے شکر گزار تھے کہ میں رو پڑی۔

خاتون کا کہنا تھا کہ میں نے کوئی احسان نہیں کیا یہ میری ذمہ داری تھی، سب سے تکلیف دہ عمل ان بچوں کی نشاندہی کرنا تھی، مجھے یاد آتا ہے میں نے کس بچے کو کس وقت کینولا لگایا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker