اقوامِ متحدہ کا شام سے بشارالاسد دور میں چھپائے گئے 73 ٹن یورینیم کی برآمدگی کا انکشاف

اقوامِ متحدہ کے ادارے عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے انکشاف کیا ہے کہ شام میں سابق حکمران بشار الاسد کے دور میں تعمیر اور پھر اسرائیلی حملے میں تباہ ہونے والا خفیہ جوہری ری ایکٹر تقریباً مکمل ہو چکا تھا اور اس حد تک پہنچ چکا تھا کہ اس سے جوہری ہتھیاروں میں استعمال کے قابل مواد تیار کیا جاسکتا تھا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق آئی اے ای اے کی رکن ممالک کو پیش کی گئی ایک رپورٹ میں ادارے نے شام کے مشرقی صوبے دیر الزور میں اسرائیلی حملے کا نشانہ بننے والے مقام پر ایک جوہری ری ایکٹر کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق شام میں اس مقام سے تقریباً 73 ٹن قدرتی یورینیم کا ذخیرہ بھی برآمد ہوا ہے۔ ری ایکٹر کے لیے ایندھن شام میں ہی تیار کیا گیا تھا جب کہ شام کی اُس وقت کی حکومت نے ان تمام سرگرمیوں کو ادارے سے چھپایا تھا۔
شام کا یہ جوہری پلانٹ جسے ’الکبار ری ایکٹر‘ بھی کہا جاتا ہے، ستمبر 2007 میں اسرائیل فضائی حملے میں تباہ ہوگیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیل کو شبہ تھا کہ شام دیر الزور میں اس مقام پر شمالی کوریا کی مدد سے پلوٹونیم پر مبنی جوہری بم بنانے کی تیاری کر رہا ہے۔



