انٹرنیشنل

قتل کیس میں جعلی گواہوں کی پیشی: چیٹ جی پی ٹی نے وکیل کو رُسوا کرا دیا

امریکی ریاست نیو میکسیکو میں وکیل کو قتل کے مقدمے میں اے آئی کے مقبول ٹول ’’چیٹ جی پی ٹی‘‘ پر اندھا اعتماد کرنا مہنگا پڑ گیا۔ وکیل نے عدالت میں جعلی گواہی اور فرضی گواہوں پر مبنی ایک ایسی عدالتی دستاویز جمع کرائی، جو چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے تیار کی گئی تھی۔ اس من گھڑت دستاویز پر نیو میکسیکو کی سپریم کورٹ نے وکیل پر پانچ ہزار ڈالر جرمانہ کردیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق عدالت نے وکیل اسٹیفن ایرونز کو توہینِ عدالت کا مرتکب بھی قرار دیا اور ان کے خلاف وکلا کے تادیبی بورڈ کو کارروائی کے لیے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔ عدالت کے مطابق وکیل کی جانب سے جمع کرائی گئی اپیل میں ایسے گواہوں کی گواہیاں شامل تھیں جو حقیقت میں موجود ہی نہیں تھے۔

یہ معاملہ آسکر رینی سینڈوول نامی شخص کی قتل کی سزا کے خلاف اپیل سے متعلق ہے۔ سینڈوول نے اپنے بچوں کی والدہ کے قتل کا الزام مسترد کرتے ہوئے خود کو بے قصور قرار دیا تھا، تاہم گزشتہ سال اسے جرم ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ اس کی اپیل ابھی زیرِ سماعت ہے اور 2 ستمبر کو یہ مقدمہ نیو میکسیکو کے سرکاری وکیل کے دفتر سے وابستہ وکیل کم شاویز کک کو سونپا گیا۔

عدالت نے بتایا کہ ایرونز کی جمع کرائی گئی دستاویز میں ایسی فرضی تفصیلات بھی شامل تھیں جن میں مبینہ طور پر یہ بیان کیا گیا تھا کہ فائرنگ کرنے والا شخص سیاہ رنگ کی پتلون اور سفید قمیض پہنے ہوئے تھا۔ عدالت کے مطابق یہ بیانات کسی حقیقی گواہ کے نہیں تھے بلکہ مکمل طور پر فرضی تھے۔

وکیل ایرونز نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے گزشتہ سال سینڈوول کی اپیل سنبھالنے کے بعد مقدمے کی کارروائی کا خلاصہ تیار کرنے کے لیے چیٹ جی پی ٹی سے مدد لی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کمپیوٹر سے تیار کردہ عدالتی نقل اور مقدمے سے متعلق مواد چیٹ جی پی ٹی کے پروگرام میں فراہم کیا اور یہ سمجھا کہ انہیں ایک انتہائی قابلِ اعتماد خلاصہ مل جائے گا۔

وکیل نے بعد میں اعتراف کیا کہ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ چیٹ جی پی ٹی کسی مقدمے کے حقائق بھی خود سے گھڑ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس غلطی پر افسوس ہے اور امید ہے کہ تادیبی بورڈ اس بات کو مدنظر رکھے گا کہ یہ ایک غیر ارادی غلطی تھی۔ ان کے مطابق یہ واقعہ ان تمام پیشہ ور افراد کے لیے ایک سبق ہے جو طاقتور مگر بعض اوقات غیر مستحکم اے آئی کی ٹیکنالوجی استعمال کررہے ہیں۔

تاہم نیو میکسیکو سپریم کورٹ کے ججوں نے اس وضاحت پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ سماعت کے دوران جسٹس سی شینن بیکن نے سوال کیا کہ کیا وکیل خبروں، ریڈیو یا دنیا میں اے آئی کے حوالے سے سامنے آنے والے مسائل سے واقف نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وکلا کی جانب سے اے آئی کی بنائی ہوئی غلط معلومات پر انحصار کا مسئلہ آج کل مسلسل خبروں میں سامنے آ رہا ہے۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ ایرونز نے اپنی غلطی پر مطلوبہ پشیمانی کا اظہار نہیں کیا اور نہ ہی اپنے مؤکل کے معاملے کے حوالے سے مناسب تشویش دکھائی۔ اسی بنیاد پر عدالت نے جرمانے کے ساتھ ان کے خلاف پیشہ ورانہ تادیبی کارروائی کی سفارش بھی کی ہے۔

یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکا میں عدالتیں اے آئی سے تیار کردہ قانونی دستاویزات کے استعمال پر بڑھتی ہوئی تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔ اس سے پہلے بھی متعدد وکلا کو ایسے مقدمات میں سزا یا جرمانے کا سامنا کرنا پڑا ہے جہاں چیٹ جی پی ٹی یا دیگر اے آئی پروگراموں نے جعلی عدالتی حوالہ جات، غلط قانونی دفعات یا ایسے فیصلے پیش کیے جو حقیقت میں موجود ہی نہیں تھے۔

ایرونز کے معاملے میں مسئلہ مزید سنگین اس لیے بن گیا کہ اے آئی کی تیار کردہ معلومات صرف غلط قانونی حوالوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ مبینہ طور پر فرضی گواہوں اور جعلی گواہی تک پہنچ گئیں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ عدالتوں میں اے آئی سے حاصل کی گئی معلومات استعمال کرنے والے وکلا کو ان کی مکمل جانچ پڑتال کی کتنی ذمہ داری اٹھانی چاہیے۔

مقدمے کی اپیل پر حتمی فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے، جبکہ ایرونز کے خلاف وکلا کے تادیبی بورڈ کی کارروائی بھی متوقع ہے۔ دوسری جانب چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی اوپن آئی نے فوری طور پر اس معاملے پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker