انٹرنیشنل

پائپ لائن کی بندش: سعودی عرب کے ذخائر میں تقریباً 7 روز کا تیل باقی رہ گیا ہے

سعودی عرب کی اہم ترین ’ایسٹ ویسٹ پائپ لائن‘ کی بحالی میں مزید تاخیر کی صورت میں اسے تیل کے ذخائر میں شدید کمی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ یہ پائپ لائن جمعے کے روز عراق سے ہونے والے ڈرون حملے کے بعد غیر فعال کر دی گئی تھی۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ پائپ لائن چند روز میں فعال نہ ہوئی تو سعودی عرب کی روزانہ تقریباً 40 لاکھ بیرل تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جو عالمی سپلائی کا تقریباً 4 فیصد بنتی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق سعودی تیل کے خریداروں اور تاجروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی تیل کی برآمدات میں مزید کمی عالمی منڈی میں پہلے سے موجود بحران کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔

جمعے کے روز عراق سے ہونے والے ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب کو اپنی سب سے بڑی ’ایسٹ ویسٹ پائپ لائن‘ کو بند کرنا پڑا تھا۔ ریاض کی جانب سے تاحال نقصان کے حجم یا پائپ لائن کی بحالی کے لیے درکار وقت کے حوالے سے حتمی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔

رائٹرز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ پائپ لائن کی مکمل مرمت میں پانچ سے چھ ہفتے لگ سکتے ہیں، تاہم کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ مرمت کے دوران ہی جزوی طور پر تیل کی ترسیل شروع کی جا سکتی ہے۔

ایسٹ ویسٹ پائپ لائن سعودی عرب کی سب سے اہم اور تزویراتی زمینی سپلائی لائن ہے۔ یہ پائپ لائن خلیجِ فارس کے خطرناک بحری راستوں خصوصاً آبنائے ہرمز کو بائی پاس کر کے تیل دنیا تک پہنچانے کے لیے بنائی گئی ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب تیل برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے جو مشرقِ وسطیٰ میں گزشتہ چھ ماہ سے جاری جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد سے اس پائپ لائن کے ذریعے روزانہ تقریباً 40 لاکھ بیرل تیل، جو عالمی تیل کی ترسیل کا 4 فیصد بنتا ہے، بحیرہ احمر پر واقع سعودی بندرگاہ ’ینبع‘ تک منتقل کیا جا رہا تھا۔

رائٹرز نے سعودی تیل کی برآمدات سے واقف ماہرین کے حوالے سے بتایا ہے کہ پائپ لائن بند ہونے کے بعد ’ینبع‘ بندرگاہ پر موجود ذخائر محض 5 سے 7 دن تک کا تیل ہی محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

ایک اور ذریعے کے مطابق سعودی عرب مصر کی بحیرہ احمر پر واقع ’عین سخنہ‘ اور بحیرہ روم پر واقع بندرگاہ ’سیدی کریر‘ پر موجود ذخائر سے بھی کئی روز تک تیل کی فراہمی جاری رکھ سکتا ہے۔

صنعتی اندازوں کے مطابق یَنبع میں تقریباً 3 کروڑ 50 لاکھ بیرل تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے، جبکہ عین سخنہ اور سیدی کریر میں بالترتیب تقریباً 1 کروڑ 80 لاکھ اور 2 کروڑ بیرل تیل ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ذرائع کے مطابق یہ ذخائر مکمل طور پر بھرے ہوئے نہیں ہیں اور مشرق سے مغرب جانے والی پائپ لائن کی بحالی کے بغیر بالآخر ختم ہو جائیں گے۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے جمعے کو بتایا تھا کہ آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کے راستے تیل کی ترسیل میں کمی کے باعث اگست میں سعودی عرب کی تیل سپلائی تین دہائیوں سے زیادہ عرصے کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

سعودی تیل کی سپلائی میں ہونے والی اس کمی نے عالمی مارکیٹ کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایندھن کی قیمتیں پہلے ہی ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہیں اور دنیا بھر میں مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے، جس نے 2008 کے معاشی بحران کے بعد امریکی بانڈز کو اپنی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

یمن میں حوثی جنگجوؤں نے بھی سعودی تیل کی ترسیل کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے رکھی ہے۔ جمعے کو حوثی جنگجوؤں نے بحیرہ احمر کے دہانے پر واقع ایک جزیرے ’پیرم آئی لینڈ‘ پر بھی قبضہ بھی کر لیا ہے۔

واضح رہے کہ ایران جنگ سے قبل مشرق وسطیٰ سے روزانہ تقریباً 2 کروڑ 20 لاکھ بیرل تیل عالمی منڈی میں پہنچتا تھا۔ صنعتی ذرائع کے مطابق اب آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تیل کی مقدار کم ہو کر صرف 60 لاکھ سے 90 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker