شمالی کوریا کے ایٹمی تجربات کا خوفناک اثر: 1400 زلزلوں کا انکشاف

شمالی کوریا کے جوہری تجربات کے مقام کے اردگرد 1399 زلزلے ریکارڈ کیے گئے ہیں، جن کے بارے میں سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ان میں سے بڑی تعداد ممکنہ طور پر جوہری دھماکوں کے بعد پیدا ہونے والی زمینی تبدیلیوں سے جڑی ہو سکتی ہے۔
ایک نئی سائنسی تحقیق کے مطابق شمالی کوریا کے اہم جوہری تجربہ گاہ کے مقام ماؤنٹ مانتاپ اور اس کے آس پاس 2017 میں ہونے والے آخری اور سب سے بڑے جوہری تجربے کے بعد زلزلوں کی سرگرمی میں نمایاں اضافہ ہوا، جو کئی سال بعد بھی جاری ہے۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ان زلزلوں کی تعداد اور شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
سائنس دانوں نے 2008 سے 2025 تک کے زلزلہ پیما ریکارڈ کا جائزہ لیا۔ اس دوران ماؤنٹ مانتاپ کے اردگرد مجموعی طور پر 1399 زلزلے ریکارڈ کیے گئے۔ شمالی کوریا نے اسی پہاڑ کے علاقے میں 2006 سے 2017 کے درمیان 6 زیر زمین جوہری تجربات کیے تھے۔
تحقیق کے مطابق ماؤنٹ مانتاپ اور اس کے آس پاس کا علاقہ تقریباً 2 ہزار سال تک بہت کم زلزلہ خیز سرگرمی والا رہا۔ شمالی کوریا کے جوہری تجربات شروع ہونے سے پہلے یہاں زلزلوں کی سرگرمی انتہائی کم تھی۔
علاقے میں پہلا زلزلہ 2013 میں ریکارڈ کیا گیا، جو شمالی کوریا کے تیسرے جوہری تجربے کے بعد آیا۔ تاہم اس کے بعد کئی برس تک زلزلے بہت کم تعداد میں آتے رہے۔
صورتحال 2017 میں اس وقت تبدیل ہوئی جب شمالی کوریا نے اپنا چھٹا اور سب سے بڑا جوہری تجربہ کیا۔ اس دھماکے کے نتیجے میں 6.3 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق دھماکے کے باعث پہاڑ کے اندر ایک سرنگ بھی بیٹھ گئی اور پہاڑ کی چوٹی کی شکل میں تقریباً 3 میٹر تک تبدیلی آئی۔
تحقیق کے مصنفین نے بتایا کہ 2017 تک اس علاقے میں زلزلوں کی سرگرمی بہت کم تھی، تاہم چھٹے اور سب سے بڑے جوہری دھماکے کے بعد اس میں نمایاں اضافہ ہوا۔
پوسان نیشنل یونیورسٹی کے شعبہ ارضیاتی علوم کے پروفیسر کم نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو بتایا کہ زیادہ تر زلزلوں کی شدت 2 سے 3 کے درمیان تھی اور یہ نسبتاً کم گہرائی میں آئے۔



