پاکستان

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج؟ آرٹیکل 232 اور 234 کیا ہیں؟

خیبرپختونخوا میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال، دہشت گردی کے واقعات اور وفاق و صوبے کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی یا آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کے امکانات پر بحث تیز ہوگئی ہے۔

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا میں آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ایمرجنسی سیاسی اختلاف کی وجہ سے نہیں بلکہ صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور امن و امان کی صورتحال کے باعث زیرِ غور ہے۔

دوسری جانب خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اور وفاق کے درمیان سیاسی کشیدگی بھی برقرار ہے۔ پی ٹی آئی نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی تاریخ تبدیل کرکے 4 اکتوبر مقرر کر رکھی ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مارچ جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے، جبکہ پی ٹی آئی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر کو خط لکھ کر موجودہ سکیورٹی صورتحال اور ایمرجنسی کے خدشے کے پیش نظر مارچ مزید مؤخر کرنے کی تجویز دی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker