لانگ مارچ ہوا تو ‘آئینی آپشن’ استعمال ہوگا: وزیرِ اعظم کی زیرِ صدارت اجلاس میں فیصلہ

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت خیبرپختونخوا کی موجودہ امن و امان اور آئینی صورتحال پر منعقدہ اعلیٰ سطح کے مشاورتی اجلاس کی اندرونی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔ اجلاس کے دوران وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کے مبینہ انتشاری اقدامات کا بھرپور اور فوری ردعمل دینے کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کے شرکاء نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو اپنا طرزِ عمل تبدیل کرنے کا آخری انتباہ دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ اگر صوبائی حکومت نے اپنا رویہ نہ بدلا تو اسے شدید نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ذرائع کے مطابق اگر تحریک انصاف کی جانب سے لانگ مارچ کی کوشش کی گئی تو وفاقی حکومت فوری طور پر آئینی آپشنز کا استعمال کرے گی، جبکہ صوبے کے انتظامی اور سیاسی مستقبل کے حتمی تعین کا مکمل اختیار صدرِ مملکت اور وزیراعظم کو تفویض کر دیا گیا ہے۔
اسی اثناء میں وفاقی دارالحکومت میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ میں اسلام آباد کی ہدایات کا منتظر ہوں کیونکہ ہم ریاستِ پاکستان کے تابع ہیں اور آئین پر عملدرآمد کروانا ہماری بنیادی ذمہ داری ہے۔
اس اہم مشاورتی اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، محسن نقوی، امیر مقام، عطاء اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے شرکت کی جہاں وزیراعظم کو صوبے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تحریک انصاف کے متوقع لانگ مارچ اور سیکیورٹی تدابیر کے حوالے سے حکومتی تیاریوں کا جائزہ پیش کیا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی آج ہی صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات متوقع ہے جبکہ کسی بھی حتمی آئینی اقدام سے قبل وفاقی کابینہ کا باضابطہ اجلاس طلب کیے جانے کا امکان ہے۔
اس سے قبل ہونے والی مشاورت کے دوران وزیر داخلہ نے تحریک انصاف کی قیادت کے ساتھ ہونے والے پس پردہ رابطوں سے متعلق بھی وزیراعظم کو آگاہ کیا تھا، جس پر وزیراعظم نے ہدایت کی تھی کہ خیبرپختونخوا سے متعلق کسی بھی بڑے یا حتمی فیصلے سے قبل تمام اتحادی جماعتوں اور سیاسی اسٹیک ہولڈرز کو مکمل طور پر اعتماد میں لیا جائے تاکہ تمام اقدامات آئینی اور سیاسی ہم آہنگی کے ساتھ اٹھائے جا سکیں۔



