ایک طالبہ کے لیے ایک اسکول، الجزائر کی انوکھی کہانی

دنیا بھر میں تعلیمی ادارے ہزاروں طلبہ کی چہل پہل اور شور شرابے سے آباد ہوتے ہیں، لیکن الجزائر کے دارالحکومت کے مشرق میں واقع ریاست جیجل کے بلند و بالا پہاڑی علاقے ”اخرات“ میں ایک ایسا انوکھا اسکول بھی موجود ہے جہاں ہر روز گھنٹی بجتی ہے، کلاس روم کھلتے ہیں، اساتذہ اپنی ذمہ داریاں نبھانے پہنچتے ہیں لیکن اسکول روزانہ صبح اپنے دروازے صرف ایک ہی طالبہ کے لیے کھولتا ہے۔
پہاڑی علاقے میں قائم اس اسکول کا منظر عام پر آنا نہ صرف دلچسپ ہے بلکہ ان دنوں اپنی انوکھی صورتحال کی وجہ سے مقامی اور عرب میڈیا کی توجہ حاصل کر رہا ہے۔
العربیہ کے مطابق یہ کہانی ہے پانچویں جماعت کی معصوم اور ہونہار طالبہ نہاد بوصبیع کی، جو ”شہید بوصبیع مبارک پرائمری اسکول“ میں زیر تعلیم ہے۔ اسکول خود ایک تاریخی نسبت رکھتا ہے کیونکہ یہ بچی کے مرحوم دادا کے نام پر قائم کیا گیا ہے۔
یہ اسکول ہمیشہ سے اتنا خاموش نہیں تھا۔ تعلیمی حکام کے مطابق کچھ عرصہ پہلے یہاں 12 طلبہ زیر تعلیم تھے، لیکن وقت کے ساتھ بچے پرائمری تعلیم مکمل کرکے مڈل اسکول میں منتقل ہوتے گئے۔
نہاد بوصبیع بھی پہلے اپنی بہن کے ساتھ اسی اسکول میں پڑھتی تھیں، تاہم ان کی بہن مڈل اسکول میں چلی گئیں اور اب پانچویں جماعت میں پہنچنے والی نہاد اکیلی طالبہ رہ گئی ہیں۔
تعلیمی حکام نے بچی کا تعلیمی سال خراب ہونے سے بچانے کے لیے اسے دوسرے اسکول منتقل کرنے کے بجائے اسی ادارے میں پانچویں جماعت تک پڑھانے کا فیصلہ کیا، جس سے یہ اسکول عملی طور پر دنیا کا انفرادی اور واحد طالبہ کا اسکول بن گیا۔
اسکول کا مکمل عملہ اور تدریسی معمولات
اگرچہ اسکول میں ہم جماعت نہ ہونے کے باوجود نہاد کا تعلیمی معمول نہیں بدلا۔ لیکن نہاد کے جذبے میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ وہ روزانہ پرجوش انداز میں اسکول جاتی ہیں، کلاس میں بیٹھتی ہیں اور اپنے مقررہ مضامین کی تعلیم حاصل کرتی ہیں۔ جہاں ریاضی، عربی، فرانسیسی، انگریزی اور جسمانی تربیت کے مضامین باقاعدگی سے پڑھائے جاتے ہیں۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس اکیلے بچے کے لیے اسکول کا پورا انتظامی اور تدریسی عملہ باقاعدگی سے فرائض انجام دے رہا ہے۔ اسکول کے پرنسپل، دو اساتذہ، ایک باورچی اور ایک چوکیدار روزانہ کی بنیاد پر موجود ہوتے ہیں اور نہاد کے لیے گرم اور تازہ کھانا بھی تیار کیا جاتا ہے۔
نہاد کے مطابق انہیں اکیلے پڑھنے میں کوئی خاص مشکل محسوس نہیں ہوتی۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی تعلیم کے لیے درکار سہولیات مل رہی ہیں اور وہ تمام مضامین پڑھ رہی ہیں۔ نہاد کے مطابق اسے کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہوتی اور اس کا مستقبل میں ریاضی کی ٹیچر بننے کا واضح خواب ہے۔
یوں ایک بڑے اسکول کی عمارت، کلاس رومز، ڈیسک، کھلا صحن اور تعلیمی عملہ موجود ہے، لیکن ان سب کے درمیان صرف ایک بچی روزانہ اپنی تعلیم حاصل کرنے پہنچتی ہے
ویران ہوتے دیہات اور اسکول کا مستقبل
یہ کہانی بظاہر ایک بچی کے عزم کی خوبصورت داستان ہے، لیکن اس کے پس منظر میں دیہی علاقوں کا ایک سنجیدہ مسئلہ بھی چھپا ہوا ہے۔ نہاد کے والد حمزہ بوصبیع نے سوال اٹھایا ہے کہ ان کا چھوٹا بیٹا بھی اب اسکول کی عمر کو پہنچ چکا ہے لیکن وہ اس واحد اسکول میں داخلہ نہیں پا سکا کیونکہ طلبہ کی انتہائی کم تعداد کے باعث مستقبل میں ادارے کی بقا خطرے میں ہے۔
علاقائی آبادی میں کمی اور نقل مکانی کے باعث دور دراز پہاڑی علاقوں کے اسکول بند ہونے کے دہانے پر پہنچ رہے ہیں۔
محکمہ تعلیم کے حکام کے مطابق موجودہ سیشن تو نہاد کے لیے جاری رکھا جا رہا ہے، لیکن سیشن کے اختتام کے بعد اس اسکول کے مستقل پر نظرثانی کی جائے گی۔
فی الحال جیجل کے اس خاموش پہاڑ پر بلیک بورڈ کے سامنے بیٹھی یہ اکیلی بچی اس بات کا ثبوت ہے کہ علم کی روشنی بجھانے کے بجائے ہر قیمت پر روشن رکھی جا سکتی ہے۔



