ایرانی حملوں کا خدشہ: امریکا نے برطانوی فوجی اڈے سے تمام جنگی طیارے واپس بُلا لیے

برطانیہ کے فیئر فورڈ فوجی اڈے پر ممکنہ دہشت گرد حملے کے خدشے کے پیش نظر امریکا نے وہاں تعینات اپنا ’بی ون بمبار‘ طیارہ واپس بلا لیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے تصدیق کی ہے کہ فیئر فورڈ ایئربیس پر موجود امریکی بی ون بمبار طیارہ اپنے ہوم بیسز پر واپس پہنچ چکا ہے۔
تاہم امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے ایوی ایشن پر نظر رکھنے والے ادارے ’ملٹری ایئر ٹریکنگ الائنس‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فیئر فورڈ اڈے سے بی 1 بمبار طیاروں کے علاوہ بی 52 بمبار طیاروں کو بھی امریکا منتقل کردیا گیا ہے۔
امریکی فضائیہ کے مطابق بی ون طیارہ اور بی 52 بمبار طیارہ عالمی سطح پر طویل فاصلے تک درست اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ان کی واپسی کے باوجود امریکی بمبار فورس عالمی سطح پر کارروائی کے لیے تیار ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب برطانوی حکام نے فیئر فورڈ ایئربیس کے قریب مشتبہ سرگرمی کے بعد 5 افراد کو گرفتار کیا تھا۔ پولیس کے مطابق 27 ستمبر کو تین مشتبہ گاڑیوں کی ایئربیس کی جانب نقل و حرکت کی اطلاع ملنے پر کارروائی کی گئی تھی اور پانچ برطانوی شہریوں کو دھماکا خیز مواد اور دہشت گردی سے متعلق الزامات کے شبہے میں حراست میں لیا گیا۔ بعد ازاں انہیں پولیس ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا۔
برطانوی انسداد دہشت گردی پولیس کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ مشتبہ افراد کے عزائم کیا تھے اور آیا کسی غیر ملکی ریاست کا اس معاملے سے کوئی تعلق ہے۔ یکم اکتوبر کو لندن میں ایک 25 سالہ برطانوی-ایرانی شہری کو بھی دہشت گرد کارروائی کی تیاری کے شبہے میں گرفتار کیا گیا تھا۔
برطانوی حکام نے ایران کے ممکنہ کردار سے متعلق خدشات کا اظہار کیا ہے، تاہم ایران نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کسی بھی قسم کے ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔
پینٹاگون کے مطابق آپریشنل سیکیورٹی کی وجہ سے امریکی طیاروں کی نقل و حرکت کی تفصیلات فوری طور پر ظاہر نہیں کی گئیں۔



