ہسپانوی وزیر اعظم کا ملک میں جاری سیاسی بحران کے باعث قبل از وقت عام انتخابات کرانےکا اعلان

ہسپانوی وزیر اعظم پیدرو سانچیز نے ملک میں جاری سیاسی بحران کے باعث 29 نومبرکو قبل از وقت عام انتخابات کرانےکا اعلان کر دیا۔
برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق یہ فیصلہ گزشتہ ہفتے حکومت کے اہم ہاؤسنگ قوانین کو منقسم پارلیمنٹ کی جانب سے مسترد کیے جانے اور ملک بھر میں ہونے والے بڑے احتجاج کے بعد اپنی سیاسی حمایت اور مینڈیٹ مضبوط کرنےکی کوشش کے طور پرکیا گیا ہے۔
ٹیلی وژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے پیدرو سانچیز نےکہا کہ وہ پارلیمنٹ میں ترقی پسند اکثریت حاصل کرنے کے لیے عوامی مینڈیٹ کی تجدید چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں عوام کی حمایت دوبارہ حاصل کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں متحرک ہونا ہوگا اور پارلیمنٹ میں بڑی اکثریت حاصل کرنی ہوگی جو ہمیں عوام کے لیے مزید سماجی اصلاحات لانے اور اسپین کو تبدیل کرنےکا عمل جاری رکھنے کے قابل بناسکے۔
پیدرو سانچیز نے اپنی حکومت کی غلطیوں اور انتخابی وعدوں کو پورا نہ کر پانےکا اعتراف کرتے ہوئےکہا کہ وہ جانتے ہیں اکثریت غیر مطمئن ہے۔
خیال رہےکہ پیدرو سانچیز عالمی سطح پر فلسطینی ریاست کی کھل کر حمایت کرنے اور تارکین وطن کے حقوق کے تحفظ کے لیے مشہور ہیں۔ تاہم دفاعی اخراجات کو جی ڈی پی کے 5 فیصد تک بڑھانے کے امریکی مطالبات کو مسترد کرنے اور چین کی طرف جھکاؤ کی وجہ سے وہ امریکی صدر ٹرمپ کی تنقید کا نشانہ بھی بنے ہیں۔
جب یورپ کے دیگر ممالک نے بیرون ملک سے آنے والے افراد کے حوالے سے اپنی پالیسیاں سخت کیں، تو سانچیز مسلسل اس مؤقف پر قائم رہےکہ اسپین کی معاشی ترقی برقرار رکھنے کے لیے تارکین وطن ضروری ہیں۔ ان کے مطابق تارکین وطن تعمیرات، زراعت اور ہوٹل و ریسٹورنٹ کے شعبے جیسے اہم شعبوں میں افرادی قوت کی کمی پوری کرتے ہیں اور اسپین کے دباؤ کا شکار فلاحی نظام کے لیے آمدنی پیدا کرنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔



