پنشن کیلئےکم ازکم 15سال کی شراکت لازمی ہے’، وفاقی آئینی عدالت نے ای او بی آئی کی اپیل منظور کرلی

وفاقی آئینی عدالت نے ای او بی آئی پنشن کے لیے کم از کم 15 سال کی شراکت کو لازمی قرار دیتے ہوئے سابق بینک ملازم کے پنشن سے متعلق کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ، وفاقی محتسب اور صدر پاکستان کے احکامات کالعدم کردیے۔
چیف جسٹس امین الدین خان نے 12 صفحات کا حکم نامہ تحریر کیا۔ تین رکنی بینچ میں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی بھی شامل تھے۔
مقدمہ سابق بینک ملازم جاوید اقبال بھٹی کی پنشن سے متعلق تھا، جن کی ملازمت 5 سال، 10 ماہ اور 8 دن رہی۔ انہیں 2015 میں 48 ہزار روپے کی اولڈ ایج گرانٹ منظور ہوئی تھی جب کہ بعد میں وفاقی محتسب نے پنشن دینےکا حکم دیا۔
عدالت کے مطابق پنشن کے لیے عمومی طور پر کم از کم 15 سال کی شراکت درکار ہے۔ یکم جولائی 2008 سے بیمہ شدہ ہونے کے باعث درخواست گزار پانچ سال کی خصوصی رعایت کا اہل بھی نہیں تھا۔ پہلے منظور کردہ گرانٹ سے پنشن کا حق پیدا نہیں ہوتا۔عدالت نے واضح کیا کہ پنشن کی درخواست مسترد ہونا بذاتِ خود بدانتظامی نہیں۔ من مانی، امتیازی سلوک، غفلت یا بلاجواز تاخیر کی شکایت اور پنشن کی قانونی اہلیت کا تنازع الگ معاملات ہیں۔فوائد کی اہلیت، رقم اور مدت کا تعین ای او بی آئی قانون کے تحت ہوگا جس میں نظرثانی اور اپیل کا طریقہ بھی موجود ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ بغیر دائرہ اختیار جاری حکم، صدر یا عدالت کی بعد کی توثیق سے قانونی حیثیت حاصل نہیں کرسکتا۔



