انٹرنیشنل

مکہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے، کسی دوسرے ملک فوج نہیں بھیجیں گے: ترک وزیر خارجہ

ترک وزیرِ خارجہ حاقان فیدان نے کہا ہے کہ ترکیہ یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ریاض کی مدد کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مکہ دفاعی معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور اسے کسی جارحانہ کارروائی کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔

حاقان فیدان نے جمعرات کو انقرہ میں ہنگری کے وزیرِ خارجہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ ترک حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ ترکیہ ’مکہ معاہدے‘ کے تحت سعودی عرب کو کس نوعیت کی معاونت فراہم کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے تکنیکی جائزے جاری ہیں اور دونوں ممالک کے فوجی حکام کے درمیان بات چیت بھی ہورہی ہے۔ ان کے مطابق ممکنہ تعاون میں خاص طور پر فضائی دفاع کے شعبے کو اہمیت دی جارہی ہے۔

ان کے مطابق ’مکہ معاہدے‘ کے تحت دفاعی مقاصد کے لیے فضائی دفاع، الیکٹرانک وارفیئر اور تکنیکی معاونت کے شعبوں میں ممکنہ تعاون ہوسکتا ہے، تاہم ترکیہ کسی جارحانہ فوجی کارروائی میں حصہ نہیں لے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی فوجیں زمینی سطح پر حوثیوں کے خلاف لڑائی جاری رکھے ہوئے ہیں اور سعودی عرب ان کی حمایت کر رہا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker