روس : لیب ورکر کی پراسرار موت، کیا کوئی خطرناک بیماری پھیل رہی ہے؟

ماسکو : سائبیریا میں تحقیقی مرکز کی خاتون لیب ورکر کی پراسرار ہلاکت کی باضابطہ وجہ تاحال معلوم نہ ہوسکی، عالمی ادارہ صحت بھی کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا۔
عالمی ادارہ صحت اور روسی صحت کے نگران ادارے نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ خاتون کی موت نامعلوم وجوہات کے باعث ہوئی ہے، تاہم طاعون کے پھیلاؤ کی تصدیق نہیں ہوئی۔
اس حوالے سے عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ اسے اب تک اس نمونیا کی حتمی وجہ معلوم نہیں ہوسکی جس کے باعث رواں ماہ سائبیریا میں طاعون کے خلاف تحقیق کرنے والے ایک تحقیقی مرکز کی خاتون لیب ورکر ہلاک ہوگئی تھیں۔ عالمی ادارے کے مطابق واقعے سے متعلق کسی فرد میں طاعون کی تصدیق بھی نہیں ہوئی۔
عالمی ادارہ صحت نے گززتہ روز بتایا تھا کہ روسی طبی اداروں کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق ہلاک ہونے والی لیب ورکر اور اس کے رابطے میں رہنے والے افراد میں بھی تاحال کسی بیماری یا طاعون کی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئی ہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ دستیاب معلومات کی بنیاد پر اسے اس واقعے کے نتیجے میں کسی بیماری کے مسلسل ایک فرد سے دوسرے فرد میں منتقل ہونے کے شواہد نہیں ملے۔
تاہم عالمی ادارہ صحت کے مطابق ایک اہم تشویش اب بھی برقرار ہے اور وہ ہلاک ہونے والی لیب ورکر کی بیماری کی حتمی تشخیص نہ ہونا ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے واضح کیا کہ موت کی وجہ کے بارے میں غیر یقینی صورتحال اس واقعے کا بنیادی سوال ہے۔
رپورٹ کے مطابق 28 سالہ خاتون لیب ورکر اکتوبر کی 2 تاریخ کو بیمار ہونے کے بعد انتقال کرگئی تھیں۔ ان کی موت کے بعد روسی حکام نے احتیاطی اقدام کے طور پر تقریباً 200 افراد کو قرنطینہ میں رکھا، جس کے باعث سوشل میڈیا پر مختلف قیاس آرائیاں بھی سامنے آئیں اور عوامی سطح پر تشویش پیدا ہوئی۔



