عام سر درد اور مائیگرین میں کیا فرق ہے؟ علامات سے پہچانیں

سر درد ایک عام مسئلہ ہے، جو تھکن، ذہنی دباؤ یا نیند پوری نہ ہونے سمیت کئی وجوہات کی وجہ سے ہوسکتا ہے۔ لیکن ہر سر درد عام نہیں ہوتا، بعض اوقات یہ مائیگرین کی علامت بھی ہوسکتا ہے۔
مائیگرین ایک ایسی کیفیت ہے جس میں بار بار سر درد کے دورے پڑ سکتے ہیں اور اس کے ساتھ متلی، قے اور تیز روشنی یا آواز سے تکلیف جیسی علامات بھی سامنے آسکتی ہیں۔ دونوں میں فرق جاننا ضروری ہے تاکہ بروقت درست علاج کیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق درد کی نوعیت، اس کے ساتھ ظاہر ہونے والی علامات اور درد کتنی دیر تک رہتا ہے، ان باتوں سے عام سر درد اور مائیگرین کے درمیان فرق سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
درد کہاں اور کیسے ہوتا ہے؟
عام طور پر ذہنی دباؤ سے ہونے والے سر درد میں سر کے دونوں طرف دباؤ، کھنچاؤ یا بھاری پن محسوس ہوسکتا ہے اور ایسا لگتا ہے جیسے سر پر کسی چیز نے کس کر باندھ رکھا ہو۔
اس کے مقابلے میں دردِ شقیقہ کا درد عام طور پر سر کے صرف ایک حصے میں ہوتا ہے جو دھک دھک یا نبض کی طرح محسوس ہوتا ہے، البتہ کبھی کبھار یہ درد سر کے دونوں طرف بھی ہو سکتا ہے
صرف سر کے ایک طرف درد ہونے سے مائیگرین کی تصدیق نہیں ہوتی، کیونکہ اس کی دوسری علامات کو بھی دیکھنا ضروری ہے۔
متلی اور روشنی سے تکلیف بھی اہم علامات
عام سر درد میں عموماً دباؤ یا کھنچاؤ محسوس ہوتا ہے، جبکہ مائیگرین کا درد درمیانے درجے سے لے کر شدید تک ہوسکتا ہے۔ چلنے پھرنے، سیڑھیاں چڑھنے یا روزمرہ کے کام کرنے سے یہ درد مزید بڑھ سکتا ہے۔
مائیگرین صرف سر درد کا نام نہیں بلکہ اس کے ساتھ متلی، قے اور تیز روشنی یا اونچی آواز سے تکلیف بھی ہوسکتی ہے۔ بعض افراد درد کے دوران اندھیرے اور خاموش کمرے میں لیٹنا پسند کرتے ہیں، کیونکہ روشنی اور آواز انہیں زیادہ پریشان کرتی ہے۔
سر درد کتنی دیر رہتا ہے؟
درد کی نوعیت کے علاوہ ان دونوں کیفیات میں فرق کرنے کا ایک اور بڑا طریقہ یہ ہے کہ عام سر درد میں انسان اپنا روزمرہ کا کام جاری رکھ سکتا ہے اور یہ تیس منٹ سے لے کر چند گھنٹوں تک رہتا ہے۔
اس کے برعکس دردِ شقیقہ کا درد بہت شدید ہوتا ہے جو چلنے پھرنے یا سیڑھیاں چڑھنے سے مزید بڑھ جاتا ہے۔ اس تکلیف کے دوران مریض کو متلی یا الٹی کی شکایت بھی ہو سکتی ہے اور اسے تیز روشنی اور اونچی آوازیں بالکل برداشت نہیں ہوتیں۔
ایسے میں مریض اندھیرے اور پرسکون کمرے میں لیٹنے پر مجبور ہو جاتا ہے اور بغیر علاج کے یہ تکلیف چار گھنٹے سے لے کر 72 گھنٹے تک رہ سکتی ہے۔ اس دوران درد کی شدت کبھی بڑھ سکتی ہے اور کبھی کم ہوسکتی ہے۔
آنکھوں کے سامنے چمکتی روشنیاں نظر آنا
مائیگرین کے بعض مریضوں کو سر درد شروع ہونے سے پہلے یا اس کے دوران آنکھوں کے سامنے چمکتی روشنیاں، ٹیڑھی میڑھی لکیریں یا نظر میں خالی دھبے دکھائی دے سکتے ہیں۔ بعض افراد کو ہاتھ پاؤں میں سنسناہٹ، بے حسی یا بولنے میں دشواری بھی ہوسکتی ہے۔
تاہم، ہر مائیگرین کے مریض کو یہ علامات نہیں ہوتیں۔ دوسری جانب، نظر میں اچانک تبدیلی یا بولنے میں دشواری کو محض مائیگرین سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ یہ کسی دوسری سنگین بیماری کی علامت بھی ہوسکتی ہے۔
اگر سر درد بار بار ہو، بہت شدید ہو، روزمرہ کے کام متاثر کرنے لگے یا پہلے ہونے والے درد سے اچانک مختلف محسوس ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔
اگر اچانک زندگی کا شدید ترین سر درد شروع ہو، یا اس کے ساتھ جسم کے کسی حصے میں کمزوری، بولنے میں دشواری، بے ہوشی یا اچانک نظر متاثر ہونے جیسی علامات ہوں تو فوری طبی امداد حاصل کریں۔
عام سر درد اور مائیگرین کی علامات ایک دوسرے سے ملتی جلتی بھی ہوسکتی ہیں، اس لیے صرف درد کی جگہ یا شدت کی بنیاد پر خود تشخیص کرنا مناسب نہیں۔ درست وجہ جاننے اور مناسب علاج کے لیے ڈاکٹر سے معائنہ کروانا بہتر ہے۔



