World

دبئی کی ائیرلائن کے معاون پائلٹ کا تل ابیب ائیرپورٹ پر خودکش حملے کا منصوبہ بے نقاب

فلائی دبئی کے معاون پائلٹ کا تل ابیب ائیرپورٹ پر خودکش حملے کا منصوبہ بے نقاب ہوگیا۔

اماراتی اٹارنی جنرل کے مطابق بھرتی کے وقت سکیورٹی جانچ میں کوئی مشتبہ اشارہ سامنے نہیں آیا تھا تاہم پائلٹ کے ممکنہ سہولت کاروں کی تلاش جاری ہے۔

حکام کے مطابق ملزم 11 ستمبر 2001 کو امریکا میں ہونے والے حملوں سے بھی متاثر تھا اور اسی طرز کی کارروائی کرنے کا خواہش مند تھا۔

تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہےکہ ملزم نے تل ابیب کے دو سابقہ دوروں کے دوران پرواز کے راستے اور ائیرپورٹ سے واقفیت حاصل کی تھی۔

حکام کے مطابق دبئی سے اسرائیل جانے والی فلائی دبئی کی پرواز کے 29 سالہ عمانی معاون پائلٹ نے طیارے پر قبضہ کرکے تل ابیب کے بن گوریون ائیرپورٹ کی عمارت سے ٹکرانے اور زیادہ سے زیادہ جانی نقصان کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔

نئی تحقیقات کا انکشاف اماراتی اٹارنی جنرل حمد سیف الشامسی نے کیا ہے ۔

حکام کے مطابق 30 ستمبر 2026 کو پیش آنے والے واقعے کے دوران ملزم نے کاک پٹ میں کپتان پر ایمرجنسی کلہاڑی سے حملہ کیا البتہ طیارے میں موجود دیگر اضافی پائلٹس ، عملے اور مسافروں کی مداخلت سے طیارے کو بحفاظت سعودی عرب کے شہر تبوک میں اتار لیا گیا۔

اماراتی خبر رساں ادارے وام کے مطابق دبئی سے تل ابیب جانے والی اس پرواز میں واپسی کے سفر کے لیے تعینات دو اضافی پائلٹ بھی سوار تھے، یہ پائلٹ تل ابیب سے دبئی واپسی کی پرواز کے لیے ڈیوٹی پر تعینات تھے، حملے کے وقت ان میں سے ایک پائلٹ کاک پٹ کے قریب موجود تھا، اس نے دروازے کو غیرمعمولی طور پر بار بار کھلتے اور بند ہوتے دیکھا تو اسے شبہ ہوا، اس نے رسائی کا کوڈ استعمال کرکے کاک پٹ میں داخل ہونے کی کوشش کی اور اندر پہنچ کر معاون پائلٹ کو کپتان پر حملہ کرتے دیکھا۔

اس کے بعد اضافی پائلٹ نے ایک کیبن کریو رکن اور چند مسافروں کی مدد سے حملہ آور کو قابو کیا اور زخمی کپتان کو بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker