بلوچستان ہائیکورٹ کی کوئٹہ میں غیر قانونی رکشوں کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت

بلوچستان ہائیکورٹ کی کوئٹہ میں غیر قانونی رکشوں کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت
کوئٹہ، 12 اکتوبر 2026ء
بلوچستان ہائیکورٹ میں غیر قانونی رکشوں سے متعلق سماعت کے دوران آر ٹی اے کی جانب سے پیش رفت رپورٹ پیش، شہر میں کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت۔
کوئٹہ میں بغیر روٹ پرمٹ چلنے والے 27 رکشے ضبط، 10 جعلی روٹ پرمٹس بھی تحویل میں لے لیے گئے، رپورٹ۔
کوئٹہ میں رکشوں کے 9 ہزار 222 دستی روٹ پرمٹس کمپیوٹرائز کر دیے گئے، آر ٹی اے کی عدالت کو آگاہی۔
رکشہ یونین کے مسائل کے حل کے لیے آر ٹی اے حکام اور یونین نمائندوں کے اجلاس میں مختلف مجوزہ اقدامات پر اتفاق۔
رکشوں پر سرخ رنگ کی مارکنگ، ڈپلیکیٹ پرمٹس کے اجرا اور ضبط شدہ رکشوں کو قانونی طریقے سے اسکریپ کرنے کی تجاویز زیر غور۔
موجودہ روٹ پرمٹ ہولڈرز کی بائیومیٹرک تصدیق بھی مجوزہ اقدامات میں شامل۔
چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ظہور احمد بلوچ نے سیکرٹری آر ٹی اے کوئٹہ کی معاونت سے رپورٹ عدالت میں پیش کی۔
درخواست گزاروں کے وکلا کی غیر قانونی رکشوں کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے اور پیش رفت رپورٹ طلب کرنے کی استدعا۔



