بلوچستان

بلوچستان حکومت کے مالی سال 2025-26 کے اخراجات سے متعلق آڈٹ رپورٹ بلوچستان اسمبلی میں پیش

بلوچستان حکومت کے مالی سال 2025-26 کے اخراجات سے متعلق آڈٹ رپورٹ بلوچستان اسمبلی میں پیش کر دی گئی ہے ۔ جس میں 37 ارب روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں، غیر قانونی اخراجات، اضافی ادائیگیوں اور ترقیاتی منصوبوں میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق صوبے میں 11 ارب 88 کروڑ 36 لاکھ روپے کے بے قاعدہ اخراجات ریکارڈ کیے گئے جبکہ مختلف محکموں کی جانب سے ایک ارب 48 کروڑ 92 لاکھ روپے کی اضافی ادائیگیوں کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹ میں مجموعی طور پر 21 ارب 48 کروڑ 92 لاکھ روپے کی ریکوری اور واجب الادا وصولیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے دوران 5 کروڑ 52 لاکھ روپے کے مشکوک اخراجات سامنے آئے، جبکہ حکومتی خزانے کو 39 کروڑ 11 لاکھ روپے کے مالی نقصان کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ آڈیٹرز نے مختلف محکموں میں مالی نظم و ضبط، قواعد و ضوابط اور شفافیت کے فقدان کی نشاندہی کی ہے۔آڈٹ رپورٹ میں صوبائی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے فنڈز کی تقسیم اور استعمال میں بھی متعدد بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران 198 ترقیاتی منصوبے ترک یا نامکمل چھوڑ دیے گئے، جن پر مجموعی طور پر 17 ارب 2 کروڑ روپے لاگت کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔بلوچستان اسمبلی میں پیش کیے جانے کے بعد آڈٹ رپورٹ کو مزید جانچ پڑتال اور کارروائی کے لیے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ کمیٹی رپورٹ میں شامل آڈٹ پیراز کا جائزہ لے کر متعلقہ محکموں اور افسران سے وضاحت طلب کرے گی اور بے ضابطگیوں کے تعین کے بعد سفارشات مرتب کرے گی۔۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker